کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 394
[آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں،تم جس کی بھی اقتدا کرو گے،ہدایت پا جاؤ گے] تو اگر کوئی شخص نکاح کر چکا تو بموجب مسلک بعض صحابہ کے نکاح صحیح ہوگیا۔واللّٰه أعلم بالصواب،وإلیہ المرجع والمآب۔ ابو تراب محمد عبدالرحمن گیلانی هو الموافق صورتِ مسئولہ میں نکاح بالاجماع جائز نہیں ہے،کیونکہ درمیان اس لڑکے اور اس لڑکی کے ماموں بھانجی کا رشتہ ہے اور جیسے نسبی رضاعی ماموں بھانجی کے درمیان نکاح حرام ہے،اسی طرح رضاعی ماموں بھانجی کے درمیان بھی نکاح حرام ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔علمائے ظاہر اور ابن علیہ وغیرہ کا بھی یہی مذہب ہے کہ درمیان رضاعی ماموں بھانجی کے نکاح جائز نہیں۔ امام نووی شرح صحیح مسلم میں لکھتے ہیں: ’’وھذہ الأحادیث متفقۃ علیٰ ثبوت حرمۃ الرضاع،وأجمعت الأمۃ علیٰ ثبوتھا بین الرضیع والمرضعۃ۔۔۔إلی قولہ:وأجمعوا أیضا علیٰ انتشار الحرمۃ بین المرضعۃ وأولاد الرضیع وبین الرضیع وأولاد المرضعۃ،و أنہ في ذلک کولدھا من النسب لھذہ الأحادیث‘‘[1] انتھیٰ [یہ احادیث متفق ہیں کہ دودھ سے حرمت ثابت ہوجاتی ہے اور امت کا اجماع ہے کہ دودھ پینے والے اور دودھ پلانے والی ماں کے درمیان حرمت ثابت ہے اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ یہ حرمت رضیع (دودھ پینے والے) اور مرضعہ (دودھ پلانے والی) کی اولاد میں اور مرضعہ اور رضیع کی اولاد میں بھی پھیلتی ہے اور اس معاملے میں اس کے نسبی بچے کی طرح ہے] حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: ’’قولہ:الرضاعۃ تحرم ما تحرم الولادۃ۔أي وتبیح ما تبیح،وھو بالإجماع فیما یتعلق بتحریم النکاح وتوابعہ وانتشار الحرمۃ بین الرضیع وأولاد المرضعۃ۔۔۔إلی قولہ:وقد وقع عند أحمد من وجہ آخر عن عائشۃ رضی اللّٰه عنہا:یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب من خال أو عم أو أخ‘‘[2] (فتح الباري) [دودھ سے وہ تمام رشتے حرام ہوں گے،جو ولادت سے حرام ہوتے ہیں اور وہ حلال ہوں گے،جو ولادت سے حلال ہوتے ہیں اور اس پر اتفاق ہے۔رضیع اور مرضعہ کی اولاد میں بھی حرمت پھیلتی ہے اور امام احمد [1] شرح صحیح مسلم للنووي (۱۰/ ۱۹) [2] فتح الباري (۹/ ۱۴۱)