کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 390
کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] حرمتِ رضاعت: سوال:دو عورتیں جو آپس میں حقیقی بہنیں ہیں،ایک بہن نے اپنے ایک حقیقی بھائی کو دودھ پلایا اور دوسری بہن نے کسی اجنبی کو دودھ پلایا،اب دونوں میں نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ جواب:سوال کے دیکھنے سے ہر دو لڑکا لڑکی میں دو قسم کی قرابت اور دو رشتے معلوم ہوتے ہیں،مثلاً:لڑکے نے جو اپنی بہن کا دودھ پیا تو دودھ پلانے والی عورت کی دوسری بہن لڑکے کی خالہ ہوگئی اور بہن ثانی کا جس لڑکی نے دودھ پیا،اس لڑکے کی خلیری بہن ہوئی۔اگر یوں کہا جائے کہ بہن ثانی بہن ہی قرار دی جائے اور وہ رضیعہ (لڑکی) اس کی بیٹی کہی جائے تو وہ لڑکی اس لڑکے کی بھانجی قرار پائے گی،تو ایک رشتے سے خالہ زاد بہن بھائی ہوئے اور دوسرے رشتے سے ماموں بھانجی کا رشتہ ہوا۔ صورتِ اول میں تو ان دونوں میں نکاح بلاشبہہ ہوسکتا ہے اور اس میں کسی کا خلاف نہیں ہے،رہی صورت دوم تو سارے محققین و جمہور صحابہ و تابعین اور اکثر مجتہدین کا یہ مسلک ہے کہ اس لڑکی و لڑکے میں عقدِ مناکحت خلافِ احادیثِ صحیحہ و براہینِ قاطعہ و حججِ ساطعہ ہوگا،یعنی ان دونوں میں نکاح کا کچھ واسطہ نہ ہوگا۔تفاسیر و شروح،اقوالِ رسول بشیر و نذیر کے اوپر نظر غائر ڈالنے سے صاف صاف مذہب جماہیر کا ثابت و مدلل معلوم ہوتا ہے اور اکثر کتابیں،بلکہ ساری کتابوں کے باری باری دیکھنے سے اس مسئلے میں کسی کا خلاف اور کچھ اختلاف معلوم نہیں ہوتا ہے،مگر شارح مسلم امام نووی رحمہ اللہ نے مسلم کی شرح میں اہلِ ظواہر اور جماہیر علما میں اختلاف نقل کیا ہے اور ان کے دلائل انھوں نے درجِ کتاب کیے ہیں،جن کو عنقریب تحریر کرتا ہوں۔ابھی چند تفسیروں کی اور حدیثوں کی عبارات دلیل میں دعوے جمہور کے نقل کیے دیتا ہوں۔ مسلّم کتاب بلاشک و ریب ’’مفاتیح الغیب‘‘ (۳/ ۲۷۱) میں امام محمد فخر الدین رازی رحمہ اللہ بذیلِ آیت:{اُمَّھٰتُکُمُ الّٰتِیْٓ اَرْضَعْنَکُمْ وَ اَخَوٰتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ} یوں تحریر فرماتے ہیں: ’’المسألۃ الثانیۃ:أنہ تعالیٰ نص في ھذہ الحالۃ علیٰ حرمۃ الأمھات والأخوات من جھۃ الرضاعۃ إلا أن الحرمۃ غیر مقصورۃ علیھن لأنہ صلی اللّٰه علیہ وسلم قال:یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب‘‘[2] انتھی ’’اس آیت میں باری تعالیٰ نے ماں بہن رضاعی کی حرمت کی صراحت (حکم) بیان فرمائی،لیکن (مخفی نہ [1] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۱۳۰) [2] التفسیر الکبیر (۱۰/ ۱۱)