کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 389
’’عن ابن عمر قال:عُرضتُ علیٰ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم عام أحد،وأنا ابن أربع عشرۃ سنۃ فردني،ثم عُرضتُ علیہ یوم الخندق،وأنا ابن خمس عشرۃ سنۃ فأجازني۔فقال عمر بن عبد العزیز:ھذا الفرق بین المقاتلۃ والذریۃ‘‘[1] [عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جنگِ اُحد کے دن میری عمر چودہ برس کی تھی،مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے جنگ میں مجھے نہ لیا،پھر خندق کی جنگ میں میری عمر پندرہ برس تھی آپ نے مجھ کو جنگ میں شامل ہونے کی اجازت دے دی۔عمر بن عبدالعزیز نے کہا:بچے اور جنگی سپاہی میں یہ حدِ فاصل ہے] در مختار میں ہے: ’’بلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال،والجاریۃ بالاحتلام والحیض والحبل،فإن لم یوجد فیہما شيء فحتی یَتمَّ لکل منھما خمس عشرۃ سنۃ،بہ یفتیٰ،وأدنیٰ مدتہ لہ اثنتا عشرۃ سنۃ،لھا تسع سنین،لقصر أعمار أھل زماننا‘‘[2] [بچے کا بالغ ہونا احتلام،انزال اور حمل کرنے سے معلوم ہوگا اور لڑکی احتلام،حیض اور حمل ہونے سے،اگر ان میں سے کوئی چیز نہ ہو تو دونوں کی پندرہ سال کی مدت ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔بلوغ کی ادنیٰ مدت لڑکے کے لیے بارہ سال اور لڑکی کے لیے نو سال ہے،کیوں کہ ہمارے زمانے میں عمریں بہت کم ہیں ] رد المحتار (۵/ ۱۴۸) میں ہے: ’’قولہ:بہ یفتیٰ۔ھذا عندھما،وھو روایۃ عن الإمام،وبہ قالت الأئمۃ الثلاثۃ،وعند الإمام:حتی یتم لہ ثماني عشرۃ سنۃ،ولھا سبع عشرۃ سنۃ۔قولہ:لقصر أعمار أھل زماننا،ولأن ابن عمر رضی اللّٰه عنہما عرض علیٰ النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم یوم أحد،وسنہ أربع عشرۃ فردہ،ثم یوم الخندق وسنہ خمس عشرۃ فقبلہ‘‘ انتھیٰ،واللّٰه تعالیٰ أعلم [اسی پر فتویٰ ہے۔یہ صاحبین کے نزدیک ہے اور امام ابو حنیفہ سے بھی ایک روایت یہی ہے۔ائمہ ثلاثہ کا مذہب بھی یہی ہے اور امام (ابو حنیفہ) کے نزدیک لڑکے کے لیے اٹھارہ سال اور لڑکی کے لیے سترہ سال،کیوں کہ ہمارے زمانے میں عمریں کم ہیں۔اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے بھی استدلال کیا گیا ہے کہ آپ کو جنگِ احد میں چودہ سال کی عمر میں نہ لیا گیا اور جنگِ خندق میں پندرہ سال کی عمر میں لے لیا گیا] [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۲۵۲۱) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۸۶۸) مشکاۃ المصابیح (۲/۲۶۷) [2] الدر المختار مع رد المحتار (۶/ ۱۵۳)