کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 388
اور پرورش کی اس سے ساقط ہوگئی شرعاً،بعد ازان نانی،پھر دادی مستحق حضانت کی ہیں اور جو نانی،دادی اور بہن وغیرہ نہ ہو تو ولایتِ حضانت عصبہ کی طرف ثابت ہوگی،پس عصبہ میں در صورت سوال برادر حقیقی ولایت ان صغیر بچوں کی رکھتا ہے اور جو برادر حقیقی نہ ہو تو برادر علاتی،یعنی بھائی سوتیلا مستحق ولایت صغیر کا ہو گا۔ ’’فالأم أحق بالولد،لما روي أن امرأۃ قالت:یا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم إن ابني ھذا کان بطني لہ وعاء،وحجري لہ حواء وثدیي لہ سقاء،و زعم أبوہ أنہ ینزعہ مني! فقال علیہ السلام:أنتِ أحق بہ ما لم تتزوجي۔۔۔وکل من تزوجت من ھؤلاء سقط حقھا لما روینا،ولأن زوج الأم إذا کان أجنبیا یعطیہ نزرا و ینظر إلیہ شرزا،فلا نظر،فإن لم یکن للصبي امرأۃ من أھلہ،واختصم فیہ الرجال فأولاھم أقربھم تعصیبا لأن الولایۃ للأقرب،وقد عرف الترتیب في موضعہ‘‘[1] کذا في الھدایۃ وغیرھا من کتب الفقہ۔واللّٰه أعلم بالصواب۔سید محمد نذیر حسین،عفي عنہ (۲۱/ ربیع الأول ۱۳۸۸ھ) [تو ماں بچے کی زیادہ حق دار ہوگی،کیوں کہ روایت کیا گیا ہے کہ ایک عورت نے کہا:یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرا بیٹا ہے،میرا پیٹ اس کا برتن تھا،میری گود اس کا پنگھوڑا تھی،میری چھاتیاں اس کی مشک تھیں اور اب اس کا باپ مجھ سے اس کو چھیننا چاہتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تک تو نکاح نہ کرے تو اس کی زیادہ حق دار ہے اور جو ماؤں میں سے نکاح کرے گی،اس کا حق ساقط ہوجائے گا،کیوں کہ اس کا خاوند تو اس بچے کو تیکھی نگاہوں سے دیکھے گا،اور اس کو بہت تھوڑا دے گا،اگر بچے کے خاندان میں کوئی ایسی عورت نہ ہو اور مردوں کا اس میں جھگڑا ہو تو سب سے زیادہ قریبی عصبہ اس کا وارث ہوگا،کیوں کہ ولایت کا حق قریبی کو پہنچتا ہے اور ترتیب ایسے مقام میں معلوم ہوچکی ہے] سید محمد نذیر حسین مسئلہ حدِّ بلوغت جاریہ کی نزدیک امام اعظم رحمہ اللہ کے سترہ برس ہیں اور دیگر ائمہ کے نزدیک پندرہ برس ہیں،لیکن فتویٰ اوپر پندرہ برس کے ہے اور یہی صحیح ہے۔فقط حررہ السید شریف حسین عفی عنہ سید محمد نذیر حسین هو الموافق بالغ ہونا لڑکے کا احتلام اور انزال سے اور بالغ ہونا لڑکی کا احتلام اور حیض سے ثابت ہوتا ہے۔اگر یہ علامتیں نہ پائی جائیں تو حد بلوغت لڑکے اور لڑکی دونوں کی پندرہ برس ہے،اسی پر فتویٰ ہے مذہب حنفی میں اور یہی بات حدیث سے ثابت ہے۔یہی مذہب ہے امام مالک اور امام شافعی اور امام احمد وغیرہم کا اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک حدِ بلوغت لڑکے کی در صورت نہ پائے جانے کسی علامت کے اٹھارہ برس ہے اور لڑکی کی سترہ برس،مگر یہ بات صحیح نہیں ہے،اسی وجہ سے فقہائے حنفیہ نے بھی اس کو اختیار نہیں کیا۔مشکاۃ شریف میں ہے: [1] الھدایۃ (۱/ ۲۸۳)