کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 387
تنتظر امرأۃ المفقود أربع سنین،وثبت أیضا عن عثمان وابن مسعود في روایۃ،وعن جمع من التابعین کالنخعي وعطاء والزھري ومکحول والشعبي،واتفق أکثرھم علیٰ أن التأجیل من یوم ترفع أمرھا للحاکم،وعلیٰ أنھا تعتد عدۃ الوفاۃ بعد مضي الأربع سنین،واتفقوا أیضاً علیٰ أنھا إن تزوجت فجاء الزوج الأول خیّر بین زوجتہ وبین الصداق،وقال أکثرھم:إذا اختار الأول الصداق غرمہ لہ الثاني‘‘[1] انتھیٰ،واللّٰه تعالی أعلم وعلمہ أتم۔ [جس عورت کا خاوند گم ہوجائے،اس کے متعلق امام زہری کہتے ہیں:وہ عورت چار سال انتظار کرے۔سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ حضرت عمر و عثمان نے یہی فیصلہ کیا تھا۔بسند صحیح مروی ہے کہ عبداﷲ بن عمر اور عبداﷲ بن عباس نے کہا کہ چار سال انتظار کرے۔عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی ایسا ہی مروی ہے اور تابعین کی ایک جماعت اسی کی قائل ہے،مثلاً:نخعی،عطا،زہری،مکحول،شعبی۔یہ چار سال کی مدت اس روز سے شمار ہو گی جس دن اس نے مقدمہ پیش کیا اور حاکم نے فیصلہ کیا کہ چار سال کی مدت گزار کر عدتِ وفات گزارے اور اس پر اتفاق ہے کہ اگر اس کے بعد اس کا پہلا خاوند آجائے تو اس کو اختیار ہے کہ چاہے تو عورت لے لے اور چاہے تو اپنا حق مہر لے لے،اگر حق مہر کو پسند کرے تو دوسرا خاوند اس کے حق مہر کا تاوان بھرے گا] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفی عنہ۔[2] سید محمد نذیر حسین بچوں کی حضانت کا حق دار کون ہے؟ سوال:ہندہ زوجہ خالد متوفیٰ نے بعد وفات اپنے شوہر،یعنی خالد کے اول عمر کے نکاح کیا اور پھر اس سے خلع کراکر ایک اجنبی شخص مسمی ولید سے نکاح کیا اور خالد سے جو اولاد صغار باقی رہی،وہ ابھی ہندہ کے پاس رہتی ہے اور ان بچوں کا ایک بھائی،یعنی جوبہ سبب بالغ ہونے کے اپنی ماں سے جدا رہتا ہے اور دوسرا بھائی علاتی موجود ہے،اس صورت میں ہندہ اپنے بچوں کی ولایت کا استحقاق رکھتی ہے یا نہیں اور در صورتے کہ اس کو ان کی ولایت کا استحقاق نہ ہو،ان دونوں بھائیوں میں سے کسی کو ان کی حضانت کا استحقاق پہنچتا ہے یا نہیں ؟ جواب:در صورتِ مرقومہ مسماۃ ہندہ بہ سبب نکاح کرنے ساتھ شخص غیر محرم صغیر کے ازروئے شریعت مصطفویہ کے ان صغیر بچوں کی ولایت کا استحقاق نہیں رکھتی،یعنی جب ہندہ نے اجنبی شخص سے نکاح اپنا کر لیا تو ولایت حضانت [1] فتح الباري (۹/ ۴۳۱) [2] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۵۷۹)