کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 386
یعنی اس کے اس قول:’’خلافا لمالک‘‘ کو حذف کرنا اولیٰ ہے۔الدر المنتقی کے مولف نے کہا:قہستانی کے مندرجہ ذیل قول کی وجہ سے ’’یہ اولیٰ نہیں ہے‘‘:اگر وہ ضرورت کے وقت اس کے مطابق فتویٰ دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں:اس مسئلے کی نظیر ایسی عورت کی عدت ہے،جس کا طہر لمبا ہوجائے،جو تین دن خونِ حیض دیکھ کر بالغ ہو (پھر اس کا حیض موقوف ہوجائے اور) اس کا طہر لمبا ہوجائے تو وہ عورت (امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک) تین حیض آنے تک عدت میں ہی رہے گی،جب کہ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک نو ماہ گزرنے سے اس کی عدت پوری ہوجائے گی۔البزازیہ کے مصنف نے کہا ہے:ہمارے اس دور میں امام مالک رحمہ اللہ کے قول کے مطابق فتویٰ دیا جاتا ہے اور زاہدی نے کہا:ہمارے بعض اصحاب بوقتِ ضرورت اس کے مطابق فتویٰ دیتے تھے۔النہر وغیرہ میں اس پر اعتراض کیا ہے:کسی دوسرے کے مذہب کے مطابق فتویٰ دینے کا کوئی سبب نہیں ہے،کیوں کہ یہاں اس بات کا امکان موجود ہے کہ حاکمِ مالکی کے پاس مقدمہ لے جایا جائے اور وہ اپنے مذہب کے مطابق فیصلہ کرے۔اسی بنا پر ابن وہبان نے اپنے منظومے میں یہ موقف اختیار کیا ہے،لیکن ہم پہلے یہ عرض کر چکے ہیں کہ یہ اس صورت کے متعلق بات ہے،جب ضرورت ثابت ہوجائے اور حاکمِ مالکی میسر نہ ہو] کتبہ:أضعف عباد الرحمن:محمد سلیمان،واللّٰه أعلم بالصواب۔الجواب صحیح۔کتبہ:محمد عبد اللّٰه۔الجواب صحیح۔محمد عبدالرحمن المبارکفوري۔مہر مدرسہ (۲۹/ نومبر ۹۳ء) [1] مفقود الخبر شوہر کا انتظار کتنی مدت تک کرنا چاہیے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ مسماۃ ہندہ کا شوہر زید مفقود الخبر ہے تو مسماۃ ہندہ کو کتنی مدت انتظار کر کے دوسرا نکاح کر لینا چاہیے؟ جواب:ہندہ کو کامل چار برس تک انتظار کرنا چاہیے،پھر عدتِ وفات (چار مہینہ دس روز) پوری کر کے نکاح کر لینا چاہیے۔مطابق فتویٰ حضرت عمر فاروق و عثمان و عبداﷲ بن عمرو عبداﷲ بن عباس وغیرہم کے۔فتح الباری میں ہے: ’’وأما قولہ:فسنتہ سنۃ المفقود۔فإن مذھب الزھري في امرأۃ المفقود أنھا تربص أربع سنین،وقد أخرجہ عبد الرزاق و سعید بن منصور و ابن أبي شیبۃ بأسانید صحیحۃ عن عمر،منھا لعبد الرزاق من طریق الزھري عن سعید بن المسیب أن عمر و عثمان رضی اللّٰه عنہما قضیا بذلک،وأخرج سعید بن منصور بسند صحیح عن ابن عمر و ابن عباس قال: [1] مجموعہ فتاویٰ غازی پوری (ص:۴۴۹)