کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 380
وأما عمرو بن حریث،وکذا قولہ:رواہ جابر عن جمیع الصحابۃ فعجیب،وإنما قال جابر:فعلناھا،وذلک لا یقتضي تعمیم جمیع الصحابۃ،بل یصدق علیٰ فعل نفسہ وحدہ،وأما ما ذکرہ عن التابعین فھو عند عبدالرزاق عنھم بأسانید صحیحۃ،وقد ثبت عن جابر عند مسلم:فعلناھا مع رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم،ثم نھانا عمر فلم نعد لھا۔فھذا یرد عدہ جابرا فیمن ثبت علیٰ تحلیلھا،وقد اعترف ابن حزم مع ذلک بتحریمھا لثبوت قولہ صلی اللّٰه علیہ وسلم:إنھا حرام إلیٰ یوم القیامۃ۔قال فأمنا بھذا القول نسخ التحریم‘‘[1] واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ الراقم:أبو محمد عبد الحق أعظم گڈھي عفي عنہ۔سید محمد نذیر حسین [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعہ کے متعلق کوئی ایسی چیز ثابت نہیں ہے،جس سے اس کی حلت معلوم ہو،بلکہ اس کی حرمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے صریحاً ثابت ہے۔امام بخاری نے باب باندھا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر عمر میں متعہ کو حرام کر دیا تھا۔حافظ ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں:اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں اس کی اجازت دی گئی تھی،لیکن اس باب میں امام بخاری نے جو احادیث ذکر کی ہیں ان میں اس بات کی تصریح نہیں،تاہم انھوں نے آخر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے کہ متعہ کی اجازت منسوخ ہو گئی،چند ایک احادیث اس کی صریح اجازت کے بعد اس کی صریح حرمت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے سب سے زیادہ قریب وہ حدیث ہے،جس کو ربیع بن سبرہ نے روایت کیا کہ عمر بن عبدالعزیز کے پاس چند لوگوں میں متعہ کے متعلق تذکرہ ہوا تو ربیع نے کہا کہ میرے باپ نے مجھ کو حدیث سنائی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں متعہ سے منع فرمایا۔ صحابہ اور تابعین اس کی حرمت پر متفق ہیں اور بعض صحابہ اور تابعین سے جو اس کی اباحت منقول ہے،اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ان کا مذہب ہے،بلکہ ان سے اس کی تحریم بھی منقول ہے۔خطابی نے کہا:متعہ کی حرمت پر اُمت کا اجماع ہے،ماسوائے چند ایک شیعہ کے اور وہ بھی اختلافی مسائل میں علی اور آلِ بیت کی طرف رجوع کرنے کے اپنے قاعدے کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کو ثابت نہیں کر سکتے،کیوں کہ ان سے اس کا نسخ ثابت ہے امام جعفر سے متعہ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:یہ زنا ہے۔ابن جریج سے اس کا جواز نقل کیا جاتا ہے،حالاں کہ ابو عوانہ سے ان کا رجوع ثابت ہے۔بعض احناف نے جو امام مالک سے اس کا جواز نقل کیا ہے،وہ بالکل غلط ہے۔مالکی تو اس کی حرمت میں اتنا مبالغہ کرتے ہیں کہ متعہ کی وجہ سے توقیت حل کے بھی قائل نہیں ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اگر نکاح کو وقت پر معلق کرے گا تو لازماً طلاق کا وقت آجائے گا تو اس کا انجام نکاحِ متعہ پر ہو گا۔قاضی عیاض نے کہا:اگر نکاح کے وقت [1] فتح الباري (۹/ ۱۷۴)