کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 377
کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔ سید محمد نذیر حسین[1] زانی مرد اور عورت کا باہم نکاح کرنا: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ عورت حمل زنا والی کا عقد اس شخص کے ساتھ جس کا حمل ہے،درست ہے یا نہیں ؟ اگر اس میں اختلاف ہو تو فتویٰ کس پر ہے؟ دلیل سے مرحمت فرمائیں۔ جواب:شخص مذکور کا نکاح عورت مذکورہ کے ساتھ جائز ہے،بشرطیکہ زنا عورت مذکورہ سے اتفاقاً صادر ہوا ہو اور زنا کی عادی اور پیشہ والی نہ ہو،کیونکہ زانیہ کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہے۔باقی رہی یہ بات کہ فتویٰ کس پر ہے؟ سو اس بارے میں کوئی صریح قول نظر نہیں پڑا،لیکن فتویٰ کے قابل یہی قول ہے،کیونکہ دلیل کی رو سے بھی قوی ہے۔واﷲ أعلم بالصواب۔ حررہ:ابو محمد عبد الحق اعظم گڑھی هو الموافق جواب صحیح ہے اور عند الحنفیہ اسی پر فتویٰ ہے۔رد المحتار میں ہے: ’’وصح نکاح حبلیٰ من الزنا عندھما،وقال أبو یوسف:لا یصح،والفتویٰ علیٰ قولھما،کما في القھستاني‘‘[2] انتھیٰ [زنا سے حاملہ عورت کا نکاح امام ابوحنیفہ و امام محمد رحمہم اللہ محمد کے نزدیک صحیح ہے اور امام ابو یوسف کے نزدیک صحیح نہیں اور فتویٰ پہلے قول پر ہے] نیز درِ مختار میں ہے:’’لو نکحھا الزاني حل لہ وطیھا اتفاقا‘‘[3] انتھیٰ [اگر زانی ہی اس عورت سے نکاح کرے تو اس کو اس سے صحبت کرنا جائز ہے] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[4] نکاحِ متعہ کی حرمت: سوال:ما قولکم أیھا العلماء۔رحمنا ورحمکم اللّٰه تعالیٰ۔ھل ثبت عن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم في المتعۃ التي أحلتھا فرقۃ باغیۃ،شيء نقتدي بہ ونتبع؟ وھل اختلف الصحابۃ في حلتھا وحرمتھا۔رضي اللّٰه تعالیٰ عنھم۔اَم اتفقوا علیٰ حرمتھا؟ وھل ثبت عن تابعیھم في حکمھا شییٔ یحتج بہ أم لا؟ بینوا بالقول الفاصل۔جزاکم اللّٰه تعالیٰ في الآجل والعاجل۔ [کیا فرماتے ہیں علماے دین کہ شیعہ متعہ کو حلال کہتے ہیں۔کیا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا جواز ثابت ہے [1] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۴۲۵) [2] رد المحتار (۳/ ۴۸) [3] مصدر سابق۔ [4] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۴۷۱)