کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 376
بھا علیٰ آباء الزاني وأجدادہ وإن علوا وأبنائہ وإن سفلوا‘‘[1] (کذا في فتح القدیر) [مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے،جائز نکاح سے بھی اور صحبت سے بھی،خواہ صحبت حلال ہو یا مشتبہ یا زنا سے،اگر کوئی کسی عورت سے زنا کرے تو اس پر اس کی ماں اور بیٹی حرام ہوجائے گی۔اگرچہ کتنی پشتوں تک ہو اور اسی طرح زانیہ عورت زانی کے باپ اور بیٹے پر حرام ہوجائے گی۔اگرچہ کتنی پشتیں کیوں نہ ہوں ] نیز نکاح سے باہر ہوجانے کے بعد کسی صورت سے اس کو اپنے خاوند کے گھر رہنا جائز نہیں،کیونکہ حرمتِ مصاہرت مؤبدہ ہوتی ہے،یعنی کوئی زمانہ اس کے لیے شوہر سے حلت کا ثابت نہیں ہوتا: ’’حرمۃ النکاح علیٰ نوعین:مؤبدۃ وغیر مؤبدۃ،فالمؤبدۃ تثبت بالنسب والرضاع والصھریۃ‘‘[2] (قاضي خان) [نکاح کی حرمت دو قسم کی ہے،ہمیشہ کی اور وقتی۔سو ہمیشہ کی حرمت نسب،رضاعت اور مصاہرت کی وجہ سے ہوتی ہے] طلاق کے لیے نکاح ضروری ہے،اس صورت میں جب نکاح جاتا رہا تو طلاق کی کچھ ضرورت نہیں۔واللّٰه أعلم بالصواب۔حررہ:حبیب أحمد دہلوی۔صح الجواب۔عبد الجلیل،عفي عنہ۔ هو الموافق مسئلہ مرقومہ میں واضح ہو کہ جب موطؤۃ الابن سے والد نے جبراً وطی کی تو اس سے وہ ابن پر حرام نہ ہوئی اور نہ اس کا نکاح فسخ ہوا،بلکہ وہ ابن کے نکاح میں علی حالہا باقی ہے،ہاں والد اس حرام کاری سے سخت گناہ گار ہوا،لیکن اس کی حرام کاری کی وجہ سے موطوء ۃ الابن،ابن پر حرام نہیں ہوئی،اس واسطے کہ { وَلَآ تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ آبَاؤُکُمْ} میں نکاح سے مراد نکاحِ شرعی ہے،نہ کہ مجرد وطی،حلال ہو خواہ حرام،اور جمہور کا یہی مذہب ہے۔ قال الحافظ ابن حجر في فتح الباري:’’وحجتھم (أي حجۃ الجمھور) أن النکاح في الشرع إنما یطلق علیٰ المعقود علیھا لا علیٰ مجرد الوطي[3] انتھیٰ [جمہور کی دلیل یہ ہے کہ شریعت میں نکاح عقد کا نام ہے نہ کہ مطلق وطی کا] نیز حدیث مرفوع:’’لا یحرم الحرام الحلال۔أخرجہ الدارقطني والطبراني عن عائشۃ،و ابن ماجہ عن ابن عمر رضی اللّٰه عنہما ‘‘[4] رضي اللّٰه عنهما سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ صورتِ مسئولہ میں موطوء ۃ الابن،ابن کے نکاح سے باہر نہیں ہوئی،بلکہ اس کے نکاح میں باقی ہے۔واللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب۔ [1] فتح القدیر (۳/ ۲۱۹) [2] فتاویٰ قاضی خان (۱/ ۱۷۷) [3] فتح الباري (۹/ ۱۵۷) [4] سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۲۰۱۵) المعجم الأوسط (۵/ ۱۰۴) سنن البیھقي (۷/ ۱۶۸) یہ حدیث ضعیف ہے۔تفصیل کے لیے دیکھیں:السلسلۃ الضعیفۃ (۳۸۵)