کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 375
کتبہ:محمد عبد الرحمٰن المبارکفوري،عفي عنہ سوال:زید نے ہندہ کے ساتھ نکاح کیا،بعد چند روز یا چند ماہ یا چند سال قبل تولد اولاد یا بعد تولد اولاد زید کا انتقال ہوا۔بعدہ بعد عدت ہندہ نے نکاح ثانی عمرو کے ساتھ کر لیا۔اب اس میں دو صورتیں ہیں،ایک یہ کہ روزِ قیامت کے حساب کے بعد،مثلاً:زید بہ باعث نکوکاری جنتی ہوا اور ہندہ برعکس اس کے اور دوسری صورت یہ کہ زید و ہندہ دونوں جنتی ہوئے،بہر کیف جنت میں ہندہ زید کو ملے گی یا عمرو کو؟ مرسلہ:احمد محمدی از مکان مولوی غلام یحییٰ صاحب وکیل ہائیکورٹ۔الٰہ آباد۔ جواب:بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کو اختیار دیا جائے گا،جس کو چاہے اختیار کر لے اور بعض روایت سے مستفاد ہوتا ہے کہ جو شوہر دنیا میں اس کے ساتھ حسنِ خلق کے ساتھ زیادہ برتاؤ رکھتا تھا۔[1]بعض سے ظاہر ہوتا ہے کہ آخری شوہر کو دی جائے گی۔[2] (معجم طبرانی و مسند بزار و طبقات ابن سعد) واﷲ أعلم بالصواب۔ کتبہ:ابو الفیاض محمد عبدالقادر اعظم گڑھی مئوی۔مہر مدرسہ (۲۵/۹/ ۹۴) هو الموافق اس بارے میں کہ عورت کس شوہر کو ملے گی؟ وہی تین روایتیں جو جواب میں لکھی گئی ہیں،نقل کی جاتی ہیں،مگر جن کتابوں سے یہ روایتیں نقل کی جاتی ہیں،وہ یہاں موجود نہیں کہ ان میں دیکھ کر ان روایتوں کا صحیح ہونا یا ضعیف ہونا معلوم ہو۔واللّٰه أعلم بالصواب۔کتبہ:محمد عبدالرحمان المبارکفوري[3] زنا حلال کو حرام نہیں کرتا: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ موطؤۃ الابن سے اگر والد جبراً وطی کرے تو کیا وہ ابن پر حرام ہوجاتی ہے یا نہیں ؟ اب ابن کو اس سے وطی کرنا جائز ہے یا نہیں اور کسی صورت سے اس کو ابن کے گھر میں رہنا جائز ہے یا نہیں اور اگر جائز نہیں ہے تو اس کا نکاحِ اول فسخ سمجھا جائے گا یا ضرورت طلاق کی ہو گی؟ جواب:بصورتِ مرقومہ جب زید نے اپنی بہو سے جبراً وطی کی تو اس صورت میں وہ اپنے خاوند کے نکاح سے باہر ہو گئی:’’کما قال اللّٰه تعالیٰ:{وَلَآ تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ آبَاؤُکُمْ} [النساء:۲۲] [جن عورتوں سے تمھارے باپوں نے نکاح کیا ہے،تم ان سے نکاح نہ کرو] اس آیت کی تفسیر میں اکثر مفسرین نے یوں تحریر کیا ہے:’’أي ما وطي آباؤکم‘‘ [جن سے تمھارے باپوں نے صحبت کی ہو] وطی حرام ہو،خواہ حلال۔ ’’الصھریۃ تثبت بالعقد الجائز وبالوطي حلالا کان أو عن شبھۃ أو زنا،قاضي خان۔فمن زنیٰ بأمرأۃ حرمت علیہ أمھا وإن علت وابنتھا وإن سفلت وکذا تحرم المزني [1] المجعم الکبیر (۲۳/۳۶۷) امام ہیثمی فرماتے ہیں کہ اس کی سند میں سلیمان بن ابی کریمہ ضعیف ہے۔ [2] المجعم الأوسط (۳/۲۷۵) السلسلۃ الصحیحۃ (۱۲۸۱) [3] مجموعہ فتاویٰ غازی پوری (ص:۳۹۶)