کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 370
پس بموجب دلائلِ شرعیہ محررہ،نیز مطابق عرف و حال زوجہ کے قول ہندہ کا حق ہے نہ کہ زید کا،فماذا بعد الحق إلا الضلال،کما لا یخفیٰ علیٰ العلماء أولي الألباب۔قد حررہ الراجي رحمۃ اللّٰه المنان:محمد عبد الرحمن،عفي عنہ۔[1] سید محمد نذیر حسین بیوی اور بچوں کا نان و نفقہ خاوند کے ذمے فرض ہے: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ زید کا نکاح ہندہ کے ساتھ ہوا۔عرصہ تخمیناً تیرہ برس کا گزرا،بدستور موافق آپس میں رہے۔اب عرصہ دو سال کا گزرا ہے کہ زید نے ہندہ مذکورہ کو مع تین بچے خورد سال کے ہندہ کے والدین کے ہاں بھیج دیا ہے۔ہنوز ہندہ اور بچوں کے نان و نفقہ اور پارچہ وغیرہ سے اسے کچھ خبر نہیں۔والدین ہندہ کے ہندہ کو اور تینوں بچوں کی پرورش کر رہے ہیں اور بہر صورت خبر گیر ان ہیں۔اب ہندہ مذکورہ دعویٰ نان و نفقہ و پرورش بچوں خرد سالہ کا زید پر کرتی ہے اور حق حقوق اپنا اور بچوں خرد سالہ کا زید سے طلب کرتی ہے۔زید مذکور عرصہ دو برس سے غیر کے ہاں کھاتا پیتا ہے اور ہندہ اور بچوں کا کچھ خبر گیران نہیں ہے۔ پس سوال یہ ہے کہ ہندہ مذکورہ کا اور بچوں خرد سالہ کا نان و نفقہ و پارچہ اور پرورش زید پر عند الشرع فرض و واجب ہے یا نہیں ؟ کتاب اﷲ و حدیثِ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے جواب اس کا تحریر فرمائیں اور عند اﷲ اجرِ عظیم پائیں۔ جواب:صورت مذکورہ میں ہندہ مذکورہ کا نان و نفقہ اور خرد سال بچوں کا نان و نفقہ و پرورش زید پر بلاشبہہ فرض و واجب ہے۔ہندہ اپنے اور اپنے بچوں کے تمام حقوق واجبہ کا زید پر دعویٰ کر کے شرعاً لے سکتی ہے اور زید بوجہ نہ ادا کرنے ان کے حقوق کے بہت بڑا ظالم اور گناہگار ہے۔ہدایہ میں ہے: ’’النفقۃ واجبۃ للزوجۃ علیٰ زوجھا،مسلمۃ کانت أو کافرۃ،إذا أسلمت نفسھا إلیٰ منزلہ فعلیھا نفقتھا وکسوتھا وسکناھا،والأصل في ذلک قولہ تعالیٰ:{لِیُنْفِقْ ذُوْسَعَۃٍ مِّنْ سَعَتِہٖ} [الطلاق:۷] وقولہ تعالیٰ:{وَ عَلَی الْمَوْلُوْدِ لَہٗ رِزْقُھُنَّ وَ کِسْوَتُھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ} [البقرۃ:۲۲۳] وقولہ صلی اللّٰه علیہ وسلم:في حدیث حجۃ الوداع:ولھن علیکم رزقھن وکسوتھن بالمعروف‘‘[2] انتھیٰ [عورت کا خرچ مرد کے ذمے واجب ہے،خواہ عورت مسلمان ہو یا کافرہ،جب کہ وہ مرد کے گھر میں رہے اور اصل اس میں اﷲ تعالیٰ کا قول ہے کہ ’’طاقت والا اپنی طاقت کے مطابق خرچ کرے۔‘‘ نیز فرمایا:’’دستور کے مطابق باپ کے ذمے عورت کا روٹی اور کپڑا ہے۔‘‘ آنحضرت نے فرمایا:ان کی روٹی [1] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۱۱۴) [2] الھدایۃ (۱/ ۲۸۵)