کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 369
کرے کہ وہ مکان مذکور مع اسباب و آلات قابلِ قیام و سکونت کے ہے یا کوئی مکان دوسرا موافق مقدور اپنے اور مقدور زوجہ کے کہ بیٹی ذی مقدور ہے،حسبِ گنجایش قیام مع اسباب کے تجویز کرے،کیونکہ شوہر پر مکان لائق رہنے زوجہ کے مع اسباب فرض ہے۔شرعاً کہ اس میں عیش و عشرت سے بلا تنگی و تکلیف اوقات بسر ہو،چنانچہ خدا تعالیٰ نے فرمایا:{وَ عَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ} نیز کتبِ فقہ میں مذکور ہے: ’’تجب لھا السکنیٰ في بیت خال عن أھلہ وأھلھا بقدر حالھا کطعام وکسوۃ انتھیٰ ما في الدر المختار مختصراً۔قولہ:بقدر حالہما في الیسار والإعسار فلیس مسکن الأغنیاء کمسکن الفقراء‘‘[1] کذا في الشامي۔ یعنی مکان دینا زوجہ کو زوج پر واجب ہے بقدر حال زوجین کے مانند طعام و لباس کے،پس مکان مالدار کا برابر نہیں ہوتا محتاج کے مکان سے۔یعنی زوجہ مالدار کی بیٹی ہے تو اس کے حسبِ حال بھی من وجہ رعایت چاہیے اور جب زوج اور زوجہ برابر مالدار ہوں تو بہر حال رعایت طعام لذیذ و لباس فاخرہ و مکان فراخ موافق گنجایش قیام زوجہ کے مع اسباب اس کے ضرور ہے،آیت {عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ وَ عَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہٗ} صریح دلالت کرتی ہے۔ ’’وذکر الخصاف أن لھا أن تقول:لا أسکن مع والدیک وأقربائک في الدار فأفرد لي دارا۔قال صاحب الملتقط:ھذہ الروایۃ محمولۃ علیٰ الموسرۃ الشریفۃ،وما ذکرنا قبلہ أن إفراد بیت في الدار کاف،إنما ھو في المرأۃ الوسط اعتبارا في السکنیٰ بالمعروف۔قولہ:اعتبارا في السکنیٰ بالمعروف۔إذ لا شک أن المعروف یختلف باختلاف الزمان والمکان،فعلیٰ المفتي أن ینظر إلیٰ حال أھل زمانہ وبلدہ،إذ بدون ذلک لا تحصل المعاشرۃ بالمعروف،وقد قال تعالیٰ {وَلاَ تُضَآرُّوْھُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْھِنَّ} [الطلاق:۶] کذا في الشامي حاشیۃ الدر المختار۔[2] [عورت کا حق یہ ہے کہ مرد سے کہہ دے کہ میں تیرے ماں باپ اور تیرے رشتے داروں کے ساتھ ایک مکان میں نہیں رہوں گی،میرے لیے علاحدہ مکان کا بندوبست کر۔یہ دولت مند کے متعلق ہے اور اوسط درجے کے مرد کی بیوی کے لیے اتنا ہی حق ہے کہ وہ مکان میں سے ایک علاحدہ کمرے کا مطالبہ کرے اور یہ جو دستور کے مطابق کہا ہے،یہ تو ظاہر ہے کہ ہر جگہ کا ایک ہی دستور نہیں ہوتا،وہ علاقے اور زمانے کے لحاظ سے بدلتا رہتا ہے اور مفتی کو چاہیے کہ تمام حالات کا لحاظ رکھے اور اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:’’ان کو تنگ کرنے کے لیے تکلیف نہ دو‘‘] [1] رد المحتار (۳/ ۶۰۰) [2] رد المحتار (۳/ ۶۰۲)