کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 368
کتبہ:محمد عبد اللّٰه۔صح الجواب۔أبو الفیاض محمد عبد القادر اعظم گڑھی مؤی۔الجواب صحیح۔کتبہ أبو العلیٰ عبد الرحمن المبارکفوري۔(مہر مدرسہ) [1] خاوند کے لیے بیوی کو بلاوجہ تنگی اور تکلیف میں ڈالنا جائز نہیں: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ نکاح مسماۃ ہندہ کا زید کے ساتھ ہوا تھا،بعد ازاں ہندہ کے باپ نے ایک قطعہ مکان واسطے سکونت کے تیار کرا کر بیٹی اپنی کو دے دیا اور ہبہ کیا،چنانچہ ہندہ اور شوہر اس کا اس مکان میں نو دس برس تک بخوبی قیام پذیر رہے۔اب چند مدت سے زید نے ہندہ سے کہا کہ ہم اپنے اقربا کے پاس جا رہیں گے۔ہندہ نے کہا کہ اس مکان مسکونہ سے تمھیں کیا تکلیف پہنچی کہ جو تم اس مکان سے اٹھ کر اپنے محلے میں قیام کا ارادہ کرتے ہو؟ ہم کو وہاں جانے میں کچھ عذر نہیں،لیکن وہ مکان جس میں رہنا چاہتے ہو،نہایت مختصر اور تنگ ہے کہ اس میں دو تین صندوق اور دیگر اسباب ہمارے جہیز کے رکھنے کی گنجائش نہیں،کیونکہ مکانِ سکونت عبارت ہے اس سے کہ اس میں مع اسباب رہنے کے قابل ہو کہ ہم مع اسبابِ جہیز اس میں گزارا کریں،حالانکہ اس مکان میں بجز دو چارپائی اندر اور دو تین چارپائی صحن کے بچھنے میں زیادہ گنجایش نہیں تو ہم تمھارے کہنے سے اس تنگ مکان میں قیام کریں تمھارے ساتھ اور تمام اسباب جہیز مع چند صندوق اور پلنگ وغیرہ کو گلی یا سڑک پر ڈال دیں یا اور مکان تین چار روپے کرایہ کالے کر مع ایک چوکیدار اس میں تمام اسباب اپنا رکھیں اور اس بات کو کوئی عقل مند پسند نہیں کرے گا کہ ہم بہ سبب عدمِ گنجایش اس مکان مختصر اور تنگ کے اس میں جا نہیں سکتے۔ پس در صورتِ اختلاف ہمارے تمھارے چند اشخاص فہمیدہ منصف مزاج مکان مسکونہ مملوکہ سابق اور اس مکان مختصر کو ملاحظہ فرما کر جیسا حکم دیں کہ لائق بود و باش مع تمام اسباب جہیز فلاں مکان ہے تو ان اشخاص کی تجویز پر ہم تم کاربند ہوں۔اب علمائے شرع حسبِ بیان وجوہات مذکورہ بالا کے فرما دیں کہ ہندہ حق پر ہے یا زید شوہر اس کا؟ جواب:در صورتِ مرقومہ ہندہ کا قول برحق ہے اور زید کا قول حق نہیں،کیونکہ جب زید کے مکان مختصر اور تنگ میں رہنا سہنا ہندہ کا مع اسباب و آلاتِ جہیز وغیرہ کے متصور نہیں ہوسکتا،پھر زید باوجود تنگ مکان کے ضد کر کے ازروئے عناد اس مکانِ مذکور میں ہندہ کو لے جانا چاہتا ہے تو یہ منشا سراسر تکلیف دہی اور تنگی میں ڈالنے کا نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ خدا تعالیٰ قرآن مجید کی سورت طلاق میں زوجہ کی ایذا رسانی اور تنگ کرنے سے منع فرماتا ہے:{وَلاَ تُضَآرُّوْھُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْھِنَّ} [الطلاق:۶] ’’اور مت ایذا دو ان کو تاکہ تنگی کرو تم ان کے اوپر،یعنی سکنیٰ میں ‘‘ کذا في البیضاوي۔ پس زید پر واجب ہے کہ یا اس مکان مسکونہ سابق میں کہ جس میں ہندہ کے ساتھ برسوں قیام کیا،مع زوجہ رہا [1] مجموعہ فتاویٰ غازی پوری (ص:۴۴۶)