کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 366
[جہاں تم خود رہو،ان کو بھی رکھو اور ان کو تنگ کرنے کے لیے تکلیف نہ پہنچاؤ] ہدایہ میں ہے: ’’وعلیٰ الزوج أن یسکنھا في دار مفردۃ،لیس فیھا أحد من أھلہ إلا أن تختار ذلک،لأن السکنیٰ من کفایتھا فتجب لھا کالنفقۃ،وقد أوجبہ اللّٰه تعالیٰ مقرونا بالنفقۃ،وإذا أوجب حقا لھا لیس لہ أن یشرک غیرھا فیہ،لأنھا تتضرر بہ،فإنھا لا تأمن علی متاعھا،ویمنعھا ذلک من المعاشرۃ مع زوجھا ومن الاستمتاع إلا أن تختار،لأنھا رضیت بانتقاص حقھا‘‘[1] انتھیٰ،واللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب۔ [خاوند کے لیے ضروری ہے کہ عورت کو علاحدہ مکان دے،جہاں مرد کے خاندان کا کوئی اور آدمی نہ ہو،ہاں اگر عورت دوسرے لوگوں میں رہنا پسند کرے تو علاحدہ بات ہے،کیوں کہ رہایش کے لیے مکان دینا،عورت کا نان و نفقہ کی طرح حق ہے اور اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہوسکتا،کیوں کہ عورت کو تکلیف ہو گی،اس کا سامان محفوظ نہیں رہ سکے گا اور عورت مرد آزادی سے وہاں رہ نہ سکیں گے] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] اگر خاوند کئی سال بلا نان و نفقہ بیوی کو چھوڑ کر روپوش ہو جائے؟ سوال:ایک عورت کا شوہر نکاح کے بعد کہیں چلا گیا،اب اس کو گئے ہوئے دسواں برس ہے اور جب سے گیا ہے،کچھ اس کا پتا نہیں ہے کہ کہاں ہے؟ مر گیا یا جیتا ہے؟ اس عورت نے بمشکل تمام اب تک اس کا انتظار کیا اور اب انتظار نہیں کر سکتی،اس صورت میں اس کا نکاح دوسرے کسی سے کر دینا درست ہے یا نہیں ؟ جواب:اس صورت میں اس عورت کا نکاح دوسرے شخص سے کر دینا درست ہے،لیکن اس عورت کو چاہیے کہ اولاً اس مقدمے کو اپنے سردار کے پاس پیش کرے اور سردار اس عورت کا بیان سن کر اور اس بیان کی تحقیق کر کے اس کے شوہر کی موت کا حکم دے اور اس عورت کو حکم دے کہ چار مہینے دس روز عدت بیٹھے،بعد اس کے اس کا ولی دوسرے سے نکاح کر دے۔موطا امام مالک رحمہ اللہ میں ہے: ’’مالک عن یحییٰ بن سعید عن سعید بن المسیب عن عمر بن الخطاب رضی اللّٰه عنہ:أیما امرأۃ فقدت زوجھا فلم تدر أین ھو؟ فإنھا تنتظر أربع سنین،ثم تعتد أربعۃ أشھر وعشرا،ثم تحل‘‘ انتھیٰ [1] الھدایۃ (۲/ ۴۳) [2] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۴۱۱)