کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 356
کیوں کہ ان کی حرمت اس آیت:{حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ۔۔۔الخ} میں منصوص علیہا ہے اور ان میں متفرق پھوپھیاں،متفرق خالائیں اور متفرق بھتیجیاں بھی داخل ہیں،کیوں کہ (ان کے) اسم کی جہت عام ہے] کتبہ:محمد عبد اللّٰه (مہر مدرسہ) تاریخ ۲/ جمادی الاولیٰ ۱۳۱۰ھ۔ المجیب مصیب۔أبو محمد إبراہیم۔الجواب صحیح۔کتبہ:أبو العلیٰ محمد عبدالرحمن المبارکفوري۔الجواب صحیح۔علي أصغر۔الجواب صحیح۔محمد حسن بصري۔[1] حاملہ عورت سے نکاح درست ہے یا نہیں ؟ سوال:حاملہ عورت سے نکاح درست ہے یا نہیں ؟ جواب:حاملہ عورت سے نکاح درست نہیں ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: {وَاُولاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَھُنَّ} [الطلاق:۲۸] [اور جو حمل والی ہیں،ان کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کر دیں ] کتبہ:محمد عبد اللّٰه (مہر مدرسہ أحمدیہ)۔ہذا الجواب صحیح لا ریب فیہ۔کتبہ:أبو العلیٰ محمد عبدالرحمن۔[2] عدت کے اندر نکاح کرنے کا حکم: سوال:مسمی عبداﷲ نے ہندہ بی بی سے عدت کے اندر نکاح کیا اور صحبت بھی کی،پھر چند لوگوں نے اس کو روکا اور صحبت سے منع کیا،پھر جو عدت کے ایام باقی تھے،اس کو اختتام کر کے پھر تجدیدِ نکاح کر دیا۔اب کوئی عالم کہتے ہیں کہ اول نکاح جو عدت میں واقع ہوا،باطل ہے،اب تم کو پھر عدت کرنا ہوگا۔پہلی عدت کفارہ میں گئی ہے تو بعد گزرنے عدت جدیدہ کے نکاح کر لینا،پس اس صورت میں نکاح پہلا صحیح یا دوسرا ہوگا یا اب جو حساب میں تیسرا ہے؟ جواب:اس صورت میں اختلاف ہے کہ آیا ہندہ پر دو مستقل عدتیں واجب ہیں یا دو متداخل عدتیں ؟ ایک قول یہ ہے کہ دو مستقل عدتیں واجب ہیں،یعنی ہندہ پر یہ واجب ہے کہ اولاً پہلی عدت کرے اور جب وہ پوری ہو جائے،تو اس وقت سے دوسری عدت از سرِ نو شروع کرے اور جب وہ بھی پوری ہو جائے تب اگر نکاح کرے تو وہ نکاح صحیح ہوگا اور تا انقضا اس دوسری عدت کے عبداﷲ اور ہندہ میں تفریق رہنا چاہیے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ دو متداخل عدتیں واجب ہیں،یعنی ہندہ پر یہ واجب ہے کہ اولاً پہلی عدت پوری کرے اور اسی پہلی عدت میں دوسری عدت بھی اس وقت سے شروع ہوجاتی ہے،جب سے کہ عبداﷲ اور ہندہ میں تفریق [1] مجموعہ فتاویٰ غازی پوری (ص:۴۱۸) [2] مجموعہ فتاویٰ غازی پوری (ص:۴۲۱)