کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 355
’’وکان إذا ھاجرت امرأۃ من أھل الحرب لم تخطب حتی تحیض وتطھر فإذا تطھر حل لھا النکاح‘‘[1] [جب کوئی عورت اہلِ حرب سے ہجرت کر کے آجاتی تو اس سے اس وقت تک منگنی نہ کی جاتی،جب تک وہ حیض گزار کر پاک نہ ہوجاتی،جب پاک ہوجاتی تو اس سے نکاح درست ہوتا] اس ٹکڑے کے تحت میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’تمسک بظاھرہ الحنفیۃ،وأجاب الجمھور بأن المراد تحیض ثلاث حیض لأنھا صارت بإسلامھا وھجرتھا من الحرائر بخلاف ما لو سبیت‘‘[2] انتھیٰ،واللّٰه تعالیٰ أعلم وعلمہ أتم۔ [حنفیہ نے اس حدیث کے ظاہر سے ایک حیض عدت استدلال کیا ہے اور جمہور یہ جواب دیتے ہیں کہ حیض سے مراد تین حیض ہیں،کیوں کہ وہ اسلام اور ہجرت کی وجہ سے آزاد ہوچکی ہے،برخلاف اس کے اگر وہ قیدی بن کر آتی] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[3] سید محمد نذیر حسین خالہ سے نکاح کا حکم: سوال:کیا فرماتے ہیں علماے دین اس مسئلے میں کہ زید کے محل اول سے ایک لڑکی ہوئی،اس لڑکی کے بیٹا ہے اور پھر زید کے محل ثانی سے لڑکی پیدا ہوئی تو فرمائیے کہ زید کے ناتنی اور زید کے محل ثانی سے جو بیٹی ہے،دونوں میں نکاح جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا! جواب:زید کے ناتنی اور زید کے محل ثانی سے جو لڑکی ہے،دونوں میں نکاح جائز نہیں ہے،اس لیے کہ زید کے محل ثانی سے جو بیٹی ہے،وہ زید کے ناتنی کی خالہ علاتیہ ہے اور خالہ سے نکاح جائز نہیں ہے۔خواہ خالہ عینیہ ہو یا علاتیہ یا اخیافیہ۔ہدایہ (۱/ ۲۸۷ چھاپہ مصطفائی) میں ہے: ’’قال:لا یحل للرجل أن یتزوج بأمہ۔۔۔إلی أن قال:ولا بخالتہ،لأن حرمتھن منصوص علیھا في ھذہ الآیۃ،وتدخل فیھا العمات المتفرقات والخالات المتفرقات،وبنات الإخوۃ المتفرقین،لأن جھۃ الاسم عامۃ‘‘ انتھیٰ،واللّٰه أعلم بالصواب [انھوں نے کہا:آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنی ماں سے نکاح کرے۔۔۔نہ اپنی خالہ کے ساتھ، [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۹۸۲) [2] فتح الباري (۹/ ۴۱۸) [3] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۳۵۸)