کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 354
معا في دار الإسلام‘‘[1] انتھیٰ [یہ بات تو ظاہر ہے کہ زوجین میں سے اگر ایک مسلمان ہوجائے تو فرقت فی الحال واقع ہوگی اور عدت کے گزرنے کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث بہ ظاہر اس کے خلاف معلوم ہوتی ہے کہ ’’جب تک حیض سے پاک نہ ہو جائے،اس سے خطبہ (پیغامِ نکاح) نہ کیا جائے۔‘‘ ان دونوں میں تطبیق بھی ہوسکتی ہے کہ ابن عباس کی حدیث کا یہ مطلب ہو کہ جب تک عورت عدت میں ہے،اس کے مرد کے اسلام کا انتظار کیا جائے اور عدت ختم ہونے کے بعد ایک ساعت کی بھی اس کے خاوند کو مہلت نہ دی جائے۔ابن عباس کے قول کو عطا،طاؤس،ثوری،ابو ثور،ابن منذر اور اہلِ کوفہ نے اختیار کیا ہے۔امام بخاری کا رجحان بھی اسی طرف ہے،اہلِ کوفہ کہتے ہیں کہ عدت کے دوران اس کے مرد پر اسلام پیش کیا جائے] موطا امام محمد (ص:۲۶۷) میں ہے: ’’قال محمد:إذا أسلمت المرأۃ،وزوجھا کافر في دار الإسلام،لم یفرق بینھما حتی یعرض علیٰ الزوج الإسلام،فإن أسلم فھي امرأتہ،وإن أبیٰ أن یسلم فرق بینھما،وکانت فرقتھا تطلیقۃ بائنۃ،وھو قول أبي حنیفۃ وإبراھیم النخعي‘‘ انتھیٰ [امام محمد کہتے ہیں کہ اگر عورت مسلمان ہوجائے اور اس کا مرد کافر ہو اور دارالاسلام میں ہو تو حق یہ ہے کہ فوری طور پر ان میں جدائی نہ کی جائے،بلکہ مرد پر اسلام پیش کیا جائے۔اگر وہ اسلام قبول کر لے تو یہ اسی کی عورت ہے اور اگر انکار کرے تو ان میں تفریق کر دی جائے اور ان کی فرقت طلاق بائن ہوگی۔امام ابوحنیفہ اور ابراہیم نخعی کا یہی قول ہے] نیز صحیح بخاری میں ہے:’’باب نکاح من أسلم من المشرکات وعدتھن‘‘ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کے تحت لکھتے ہیں: ’’أي قدرھا،والجمھور علیٰ أنھا تعتد عدۃ الحرۃ،وعن أبي حنیفۃ یکفي أن تستبرأ بحیضۃ‘‘[2] [اگر کوئی مشرک عورت مسلمان ہو جائے توجمہور کا مذہب یہ ہے کہ وہ آزاد عورت کی عدت گزارے اور ابوحنیفہ کے نزدیک ایک حیض سے استبراے رحم کرے] پھر امام بخاری رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وہ حدیث ذکر کی ہے،جس کا ایک ٹکڑا یہ ہے: [1] فتح الباري (۹/ ۴۲۱) [2] فتح الباري (۹/ ۴۱۸)