کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 352
کیا سوتیلے باپ کی بیوہ سے نکاح کرنا درست ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ زید کی ماں یعنی فاطمہ ہندہ کے پہلے شوہر کے نکاح میں تھی،اب وہ شوہر مر گیا،بعد چندے پھر زید نے ہندہ مذکور سے اپنا نکاح کر لیا۔یہ عقد صحیح ہوا یا نہیں ؟ جواب:در صورتِ مرقومہ معلوم کرنا چاہیے کہ درمیان زید و شوہر اول ہندہ کے رشتہ حقیقی پایا نہیں جاتا،بلکہ شوہر مذکور زید کا سوتیلا باپ ہوا،اس لیے کہ ماں زید کی اس کے نکاح میں تھی،وعلی ہذا القیاس زید کا ہندہ سے بھی کچھ رشتہ نہیں،وہ دونوں باہم اجنبی ہیں،پس بحکم آیت {اُحِلَّ لَکُمْ مَّآ وَرَآئَ ذٰلِکُمْ} کے نکاح کر لینا زید کا ہندہ سے درست و صحیح ہے۔واللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب۔ حررہ سید شریف حسین عفی عنہ سید محمد نذیر حسین هو الموافق سوال سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ زید اپنی ماں فاطمہ کے پہلے شوہر کے نطفے سے نہیں ہے اور اسی بنا پر یہ جواب لکھا گیا ہے،لیکن اگر اسی کے نطفے سے ہے تو اس تقدیر پر زید کا ہندہ سے نکاح کرنا صحیح نہ ہوگا،کیونکہ اس صورت میں ہندہ زید کے باپ کی منکوحہ ہوئی اور باپ کی منکوحہ سے نکاح جائز نہیں ہے۔قال اﷲ تعالیٰ:{وَلَا تَنْکِحُوْ مَا نَکَحَ آبَآؤُکُمْ} [النساء:۲۲] ’’اور ان عورتوں سے نکاح مت کرو جن سے تمھارے باپ نکاح کر چکے ہوں۔‘‘ واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] کیا عورت کے مسلمان ہونے سے اس کا نکاح ختم ہو جاتا ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ عورت نے اسلام قبول کیا اور زوج اس کا کافر ہے تو کیا عورت اس سے جدا ہوئی یا نہیں ؟ اگر ہوئی تو کس عدت کے بعد نکاح ثانی کر سکتی ہے؟ جواب:اس مسئلے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف ہے۔فقہائے کوفہ،عطا،طاؤس اور ثوری کے نزدیک محض اسلام سے عورت کی جدائی ہو جاتی ہے۔ابن المنذر نے اسی کو اختیار کیا ہے اور امام بخاری کا بھی اسی طرف میلان ہے۔قرآن مجید کی یہ آیت:{لَا ھُنَّ حِلُّ لَّھُنَّ وَلَا ھُمْ یَحِلُّوْنَ لَھُنَّ} [الممتحنۃ:۱۰] [نہ وہ عورتیں ان کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ مرد اُن عورتوں کے لیے حلال ہیں ] بھی اسی قول کی تائید کرتی ہے،مگر فقہائے کوفہ نے یہ شرط لگائی ہے کہ جب عورت مسلمان ہوجائے اور اس کا شوہر کافر ہو اور وہ دونوں دارالسلام میں ہوں تو ان دونوں میں فوراً تفریق نہیں کی جائے گی،بلکہ شوہر پر اسلام پیش کیا جائے گا۔اگر وہ مسلمان ہو جائے تو وہ عورت علی حالہا اس کی عورت باقی رہے گی اور اگر وہ مسلمان ہونے سے انکار کرے تو ان دونوں میں تفریق کر [1] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۱۷۳)