کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 351
منکوحہ عورت سے طلاق کے بغیر نکاح کرنا حرام ہے: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ ایک عورت صاحبِ اولاد ہو،خاوند زندہ ہو،بغیر طلاق دوسرے بھائی کے ہمراہ عقد ہوسکتا ہے یا نہیں اور اس نکاح سے حمل جو ہو گیا ہو،اس کو ولد الزنا کہا جائے گا یا نہیں ؟ نیز جو مجنون حلال حرام پہچان سکتا ہو یا آنہ دو آنہ کی چیز خرید کر لا سکتا ہو،اس کی عورت کے ہمراہ بغیر طلاق حاصل کیے نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ جواب:خاوند زندہ ہو اور اس نے اپنی عورت کو طلاق دی ہو نہ اس کی عورت کو کسی وجہ سے فسخِ نکاح کا اختیار حاصل ہوا ہو تو اس کی عورت منکوحہ غیر مطلقہ سے نکاح نہیں ہو سکتا ہے۔اگر کوئی کرے گا تو وہ نکاح حرام و باطل ہوگا اور اس حرام و باطل نکاح سے جو اولاد ہوگی،وہ بلاشبہہ ولد الزنا ہوگی،نیز جس عورت کا شوہر مجنون ہو اور اس کے مجنون ہونے کی وجہ سے اس عورت کا ضرر ہو اور وہ عورت بہ سبب اپنے ضرر کے اس کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو ایسی صورت میں عورت کو اپنے نکاح کے فسخ کا اختیار حاصل ہے،اپنا نکاح فسخ کر کے بغیر طلاق کے اپنا دوسرا نکاح کر سکتی ہے۔ موطا امام محمد میں ہے: ’’أخبرنا مالک أخبرنا مجبر عن سعید بن المسیب أنہ قال:أیما رجل تزوج امرأۃ،بہ جنون أو ضر،فإنھا تخیر،إن شاء ت قرت،وإن شاء ت فارقت۔قال محمد:إذا کان أمرا لا یحتمل خیرت،فإن شاء ت قرت وإن شاء ت فارقت وإلا لا خیار لھا إلا في العنین والمجبوب‘‘[1] انتھی۔ٰ قال في نیل الأوطار:’’وقد ذھب جمھور أھل العلم من الصحابۃ فمن بعدھم إلیٰ أن یفسخ النکاح بالعیوب،وإن اختلفوا في تفاصیل ذلک‘‘[2] الخ [ابن مسیب نے کہا:جو آدمی نکاح کرے اور اس کو دیوانگی یا کوئی بیماری ہو تو عورت کو اختیار دیا جائے گا،چاہے تو اس کے گھر رہے،چاہے تو علاحدہ ہوجائے۔امام محمد نے کہا:جب معاملہ تحمل سے باہر ہو تو اس کو اختیار ہے،چاہے تو رہے،چاہے تو نہ رہے اور نامرد اور مجبوب (ذکر بریدہ) کے سوا میں اختیار نہیں ہے۔نیل الاوطار میں ہے:جمہور اہلِ علم صحابہ اور ان کے بعد کے لوگوں کا یہی مذہب رہا ہے کہ عیوب سے نکاح فسخ ہوجاتا ہے۔اگرچہ عیوب کی تفصیل میں اختلاف ہے] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[3] سید محمد نذیر حسین [1] موطأ الإمام محمد (۲/ ۴۵۴) [2] نیل الأوطار (۶/ ۲۱۱) [3] فتاویٰ نذیریہ (۳/ ۱۶۹)