کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 349
گا،تو اس صورت میں زید کو یہ روپے لینے جائز نہیں ہیں۔علامہ شوکانی نیل الاوطار (۷/ ۹۱) میں لکھتے ہیں: ’’وأحق ما یکرم علیہ الرجل ابنتہ أو أختہ۔فیہ دلیل علیٰ مشروعیۃ صلۃ أقارب الزوجۃ وإکرامھم والإحسان إلیھم،وأن ذلک حلال لھم،ولیس من قبیل الرسوم المحرمۃ إلا أن یمنعوا من التزویج إلا بہ‘‘ انتھیٰ [آدمی بہت حق رکھتا ہے کہ اس کی بیٹی یا بہن کی وجہ سے اس کی عزت افزائی کی جائے۔اس میں بیوی کے رشتے داروں سے صلہ رحمی کرنے،ان کی تکریم کرنے اور ان سے حسنِ سلوک کرنے کی دلیل ہے۔بلاشبہہ یہ ان کے لیے حلال ہے،یہ حرام رسوم کی قبیل سے نہیں ہے،اِلا یہ کہ وہ اس کے بغیر نکاح کرنے سے انکار کریں ] حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جو اپنی زرہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو دی تھی،سو بلاشبہہ ظاہر یہی ہے کہ مہر میں دی تھی اور محدثین نے بھی یہی سمجھا ہے۔ہاں یہ بھی واضح رہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ فاطمہ کو کچھ دو،سو یہ قبل نکاح کے نہیں کہا تھا اور نہ عقد کے وقت کہا تھا،بلکہ نکاح کے بعد اس وقت کہا تھا جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانے کا ارادہ کیا تھا،ان باتوں کا ثبوت یہ ہے کہ منتقی الاخبار میں ہے:’’باب تقدمۃ شییٔ من المھر قبل الدخول والرخصۃ في ترکہ‘‘ اس باب میں ابن عباس کی حدیث مذکور کو نقل کیا ہے،پھر لکھتے ہیں: ’’وفي روایۃ أن علیا لما تزوج فاطمۃ أراد أن یدخل بھا فمنعہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم حتی یعطیھا شیئاً فقال:یا رسول اللّٰه! لیس لي شییٔ۔فقال لہ:أعطھا درعک الحطمیۃ،فأعطاھا درعہ،ثم دخل بھا‘‘[1] (رواہ أبو داود) [ایک روایت میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے جب فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور ان پر دخول کا ارادہ کیا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کچھ دیے بغیر ان کے پاس جانے سے روکا،انھوں نے عرض کی:یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کہا کہ اپنی زرہ حطمیہ ہی اس کو دے دو تو انھوں نے اپنی زرہ دے دی اور ان پر دخول کیا] پھر لکھتے ہیں: ’’وھو دلیل علیٰ جواز الامتناع من تسلیم المرأۃ ما لم تقبض مھرھا‘‘ انتھی [یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کا اپنے آپ کو سپرد کرنے سے روکنا جائز ہے،جب تک وہ اپنا مہر نہ لے لے] [1] نیل الأوطار (۶/ ۲۲۳)