کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 348
روپیہ لے کر اپنی دختر کا نکاح کرنا: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ زید نے بکر سے چار سو روپے لے کر اپنی دختر کا نکاح اس سے کر دیا۔یہ روپے لینے جائز ہیں یا نہیں ؟ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ کا نکاح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کیا تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زرہ لے کر فروخت کر کے کچھ کپڑے اور خوشبو خریدا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جہیز میں دیا۔یہ بعوض مہر تھا یا مہر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے علاحدہ دیا تھا؟ دختر کا مہر لے کر اس کا کپڑا وغیرہ بنوا دینا درست ہے یا نہیں ؟ جواب:روپیہ لے کر نکاح کرنا حرام ہے،اس لیے کہ یہ رشوت ہے اور رشوت لینا اور دینا شرعاً حرام ہے: ’’عن عبداللّٰه بن عمرو قال:لعن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم الراشي والمرتشی۔[1] رواہ أبو داود وابن ماجہ،ورواہ الترمذي عنہ وعن أبي ھریرۃ،ورواہ أحمد والبیھقي في شعب الإیمان عن ثوبان وزاد:والرائش یعني الذي یمشي بینھما‘‘[2] (مشکاۃ شریف باب رزق الولاۃ وھدایاھم) یعنی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور لینے والے پر لعنت کی ہے۔زرہ مذکور بعوض مہر تھا،جیسا کہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ظاہر ہے: ’’لما تزوج علي فاطمۃ قال لہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:أعطھا شیئاً۔قال:ما عندي شییٔ۔قال:فأین درعک الحطمیۃ؟ فأعطاھا إیاہ‘‘[3] (رواہ أبو داود والنسائي) یعنی جب نکاح کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ سے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت علی سے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ دو۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا:میرے پاس کچھ نہیں ہے۔آپ نے فرمایا:تمھاری زرہ حطمیہ کہاں ہے؟ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے زرہ حطمیہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دے دی۔ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے زرہ کو مہر میں دیا تھا۔ومن ادعٰی خلافہ فعلیہ الدلیل۔دختر کا مہر لے کر اس کے لیے کپڑا وغیرہ بنوا دینا درست ہے۔واﷲ تعالیٰ أعلم۔ حررہ:عبد الرحمن گورکھ پوری،عفا اللّٰه عنہ،(۲۲/ صفر ۱۳۱۸ھـ) هو الموافق زید نے جو چار سو روپے لے کر بکر سے اپنی دختر کا نکاح کیا ہے،سو اگر بکر نے اپنی خوشی سے بلا طلب زید کے روپے دیے ہیں تو زید کو یہ روپیہ لینا جائز ہے،اس میں کوئی قباحت شرعی نہیں ہے،لیکن اگر زید نے بکر سے یہ کہہ کر روپے لیے ہیں کہ اگر مجھے چار سو روپیہ دو گے تو اپنی دختر کا نکاح تمھارے ساتھ کروں گا اور نہ دو گے تو نہیں کروں [1] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۳۵۸۰) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۳۸۶) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۲۳۱۳) [2] مسند أحمد (۲۲۳۹۹) شعب الإیمان (۵۵۰۳) اس کی سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہے،نیز اس کی سند میں کچھ اور علتیں بھی ہیں،جن کی وجہ سے یہ اضافی الفاظ ضعیف ہیں۔ [3] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۲۱۲۵) سنن النسائي الکبری (۵۵۴۲)