کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 344
تحتہ أربع،وطلق واحدۃ منھن طلاقا بائنا،وروي ذلک عن سعید بن المسیب والحسن والقاسم وعروۃ بن الزبیر وابن أبي لیلیٰ والشافعي وأبي ثور وأبي عبید،قال ابن المنذر:ولا أحسبہ إلا قول مالک،وھو أیضاً إحدی الروایتین عن زید بن ثابت وعطاء‘‘[1] انتھیٰ واللّٰه تعالیٰ أعلم۔أملاہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ [امام قرطبی رحمہ اللہ نے کہا ہے:علما کا اس پر اجماع ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو ایسی طلاق دے جس کے بعد اس کو رجوع کا حق ہو تو وہ مطلقہ کی عدت پوری ہونے تک اس کی بہن سے نکاح نہیں کر سکتا۔ہاں اس میں اختلاف ہے کہ جب وہ اس کو ایسی طلاق دے جس کے بعد وہ رجوع کا حق نہ رکھتا ہو تو ایک گروہ نے کہا ہے:اسے اس (مطلقہ بیوی) کی بہن سے اور کسی چوتھی بیوی سے نکاح کرنے کا حق نہیں ہے،یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہو جائے جس کو اس نے طلاق دی ہے۔یہ موقف علی،زید بن ثابت،مجاہد،عطا،نخعی،ثوری،احمد بن حنبل اور اصحاب الرائے سے مروی ہے۔جب کہ ایک گروہ کا کہنا ہے کہ اس کو اس کی بہن سے نکاح کرنے کا اختیار ہے اور اس شخص کو چوتھی بیوی سے نکاح کرنے کا حق ہے،جس کے نکاح میں چار بیویاں ہوں اور اس نے ان میں سے ایک کو طلاق بائن دے دی ہو۔یہ سعید بن مسیب،حسن بصری،قاسم،عروہ بن زبیر،ابن ابی لیلیٰ،شافعی،ابو ثور اور ابو عبیدہ کا قول ہے،ابن المنذر نے کہا ہے:میں اس کو امام مالک کا قول سمجھتا ہوں،چنانچہ زید بن ثابت اور عطا سے بھی ایک روایت ایسی ہے] سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ زوجہ زید قضا کر گئی۔زید اپنی زوجہ کی حقیقی بہن سے دوچار روز کے بعد نکاح کر سکتا ہے یا مثل مطلقہ کے عدت گزرنے کے بعد؟ جواب با دلیل مذہب حنفی کے مطابق ہونا چاہیے۔فقط جواب:صورتِ مسئولہ میں جبکہ زوجہ زید قضا کر گئی ہے تو زید کو اپنی زوجہ کی حقیقی بہن سے دوچار دن کے بعد نکاح کرنا جائز و درست ہے،کیونکہ اس صورت میں جمع بین الاختین لازم نہیں آتا نہ نکاحاً نہ عدتاً،نیز طلاق دینے کی صورت میں،رجعی ہو خواہ بائن،بغیر عدت گزرنے کے اپنی زوجہ مطلقہ کی بہن سے نکاح کرنا جائز نہیں،کیونکہ اس صورت میں جمع بین الاختین عدتاً لازم آتا ہے۔شرح وقایہ اور اس کے حاشیہ عمدۃ الرعایۃ میں ہے: ’’وحرم علی المرء أصلہ وفرعہ۔۔۔إلی قولہ:والجمع بین الأختین نکاحاً و عدۃ،ولو من بائن،ووجہ حرمۃ الجمع عدۃ أن للعدۃ،ولو کانت من طلاق بائن،حکم النکاح من وجہ‘‘ انتھیٰ،واللّٰه تعالیٰ أعلم وعلمہ أتم۔ [1] فتح البیان في مقاصد القرآن (۳/ ۷۸)