کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 341
المستفتي:مولوی اسد اﷲ صاحب،ساکن موضع روان ضلع اعظم گڑھ (۱۰/ ربیع الاول ۴۳ھ) جواب:صورتِ مسئولہ میں جبکہ وہ لڑکی اس نکاح سے کسی طرح راضی نہیں ہے،نہ قبل بلوغ کے راضی تھی اور نہ بلوغ کے وقت راضی ہوئی اور نہ اب راضی ہے اور وہ اس نکاح سے اس درجہ ناخوش ہے کہ اس کو اپنی جان دینا بخوشی منظور ہے،مگر اس نکاح میں رہنا اس کو ہر گز منظور نہیں تو یہ نکاح حدیث کی رو سے جائز و درست نہیں ہے،اس لڑکی کے اولیا کو اختیار ہے کہ اس لڑکی کا نکاح کسی دوسرے شخص سے باجازت اس کے کر دیں جس سے وہ راضی اور خوش ہو۔بلوغ المرام میں ہے: ’’عن ابن عباس رضی اللّٰه عنہما أن جاریۃ بکرا،أتت النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم فذکرت أن أباھا زوجھا،وھي کارھۃ،فخیرھا النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم ‘‘[1] [عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور بتایا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح کر دیا ہے،جب کہ وہ (اس نکاح سے) خوش نہیں ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (نکاح قائم رکھنے یا نہ رکھنے کا) اختیار دے دیا] کیا نابالغی میں نکاح کے بعد عورت کو فسخِ نکاح کا اختیار حاصل ہے؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ ہندہ کا نکاح بولایت اس کے باپ کے بلوغت کے دو تین سال قبل ہوا اور نابالغی میں اس کی رخصتی بھی ہوئی۔وہ تین روز تک اپنے شوہر کے مکان میں خلوت کے ساتھ رہی اور شوہر قریب البلوغ تھا اور زیور کپڑا جو برادری کے رسوم سے ہے اس کو دیا گیا۔اب بالغ ہونے کے بعد شوہر کے یہاں رہنا نہیں چاہتی اور افواہاً بعض لوگوں سے معلوم ہوا ہے کہ وہ نکاح فسخ کر چکی ہے،مگر اس کی اطلاع ابھی تک شوہر کو نہیں دی،پس صورتِ مسئولہ میں باوجود خلوت اور رخصتی کے اور باوجود ولایت باپ کے نکاح فسخ کر سکتی ہے اور اس کو اس کا اختیار ہے؟ موافق کتاب و سنت کے تحریر فرمائیں۔ المرسل:محمد اسماعیل و محمد شبلی،قصبہ مئوناتھ بھنجن،ضلع اعظم گڑھ محلہ پٹھان ٹولہ جواب:باپ اگر اپنی لڑکی کا نکاح اس کی نابالغی کی حالت میں کر دے تو اس لڑکی کو بالغ ہونے کے بعد اس نکاح کے فسخ کر دینے کا حق حاصل ہے،بشرطیکہ وہ بالغ ہونے کے وقت اپنی ناراضی اور ناخوشی اس نکاح سے ظاہر کرے اور فسخِ نکاح چاہے۔اگر اس نے بالغ ہونے کے وقت اس نکاح سے اپنی ناراضی ظاہر نہیں کی اور فسخِ نکاح نہیں چاہا،بلکہ خاموش اور ساکت رہی،پھر بعد کو اس نکاح سے ناراضی اور ناخوشی ظاہر کی اور فسخِ نکاح چاہا تو اس صورت میں اس کو فسخِ نکاح کا اختیار نہیں۔ [1] مسند أحمد،رقم الحدیث (۲۴۶۹) سنن أبي داود،رقم الحدیث (۲۰۹۶) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۱۸۷۵)