کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 340
نکاح ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہوتا اور عورت کا زیادہ حق دار ہونا یہ ہے کہ جب تک عورت رضا مند نہ ہو،ولی نکاح نہیں کر سکتا] حدیثِ خنساء بنت خذام سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔دوسرے سوال کے جواب میں اتنا اور زیادہ ہونا چاہیے: ’’ومن شرائط النکاح أنہ لا نکاح إلا بولي،وإنہ لا تزوج المرأۃ المرأۃ،ولا نفسھا،کما ثبت من الأحادیث الصحیحۃ‘‘ [نکاح کی شرائط سے یہ ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔عورت کسی کا نکاح ادا کرا سکتی ہے اور نہ اپنا نکاح کر سکتی ہے،جیسا کہ احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے] تیسرے سوال کا جواب بھی صحیح نہیں ہے،جیسا کہ گذشتہ وضاحت سے واضح ہوتا ہے۔حدیث (( لا نکاح إلا بولي )) کو مجنونہ اور صغیرہ کے ساتھ خاص کرنا تخصیص بلا مخصص ہے اور شیخ عبدالحق صاحب وغیرہ نے اس خصوص میں جو کچھ لکھا ہے،وہ مدلل تشفی بخش نہیں ہے۔واﷲ تعالیٰ أعلم بالصواب۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفی عنہ۔[1] سید محمد نذیر حسین نکاح میں لڑکی کی رضا مندی ضروری ہے: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ ایک لڑکی کا نکاح زمانہ نابالغی میں ماں،نانی اور دادا نے بدون اذن نابالغہ کے کر دیا۔جب وہ لڑکی بالغ ہونے کے قریب ہوئی تو اس نکاح سے اپنی ناخوشی اور نا رضامندی ظاہر کی،پھر جب بالغ ہوئی تو بالغ ہونے کے وقت بھی پھر اپنی ناخوشی اور نارضامندی ظاہر کی اور صاف طور پر اس نے اس نکاح سے اپنا ناراض اور ناخوش ہونا ظاہر کیا اور وہ اب کہتی ہے کہ میں اس کے ساتھ ہر گز ہر گز نہ رہوں گی،مجھے اپنی جان دینا بخوشی منظور و قبول ہے،مگر ایسے شخص کے نکاح میں رہنا ہر گز منظور و قبول نہیں۔ اس کی ناخوشی کی وجہ یہ ہے کہ جس شخص کے ساتھ اُس لڑکی کا نکاح ہوا ہے،وہ بالکل آوارہ اور بدچلن ہے اور اس کی آوارگی و بدچلنی کی وجہ سے اس کے والد نے اپنے یہاں سے اس کو نکال دیا ہے۔علاوہ اس کے وہ شخص اپاہج و لنگڑا ہے اور اپنے قوتِ بازو سے کما کھا نہیں سکتا ہے اور نہ اس کے پاس کوئی جائداد ہے کہ اس سے کما کھا سکے۔ ان سب باتوں کے علاوہ وہ شخص اُس لڑکی اور اس کی والدہ کو مغلظ گالیاں دیتا رہتا ہے اور ان دونوں کی شان میں ناگفتہ بہ باتیں کہا کرتا ہے۔غرض انھیں وجوہ سے وہ لڑکی اس نکاح سے کسی طرح راضی نہیں،نہ قبل بلوغ کے راضی تھی اور نہ بلوغ کے وقت راضی ہوئی اور نہ اب راضی ہے۔پس سوال یہ ہے کہ یہ نکاح قرآن و حدیث کی رو سے جائز و درست ہوا یا نہیں ؟ بینوا توجروا! [1] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۴۴۶)