کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 338
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین و متبعینِ سنت سید المرسلین کہ 1۔ایک عورت عاقلہ،بالغہ،ثیبہ بغیر اجازت ولی کے روبرو شاہدین،عاقلین،بالغین کے اپنا نکاح کر سکتی ہے یا نہیں ؟ 2۔نکاح کی شرائط شرع محمدی میں کون کون سی ہیں ؟ 3۔ولی کا ایسی عورت پر جبر کرنا جو عاقلہ،بالغہ،ثیبہ ہو،درست ہے یا نہیں ؟ ان مسائل کا جواب بشہادت کتاب معتبر سے جو ہو بیان فرما دیں اور عند اﷲ ماجور اور عند الناس مشکور ہوں۔ جواب:سوال اول کا جواب یہ ہے کہ وہ عورت خود مختار ہے،اس کو ولی کی کچھ حاجت نہیں ہے،جبکہ سرورِ کائنات سے حدیث شریف میں موجود ہے: ’’عن ابن عباس أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قال:الأیم أحق بنفسھا من ولیھا۔وفي روایۃ قال:الثیب أحق بنفسھا من ولیھا۔وفي روایۃ:الثیب أحق من ولیھا‘‘[1] (رواہ مسلم) [نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بیوہ اپنے ولی کی نسبت اپنے نفس کی زیادہ حق دار ہے۔ایک روایت میں ہے:ثیبہ (بیوہ یا مطلقہ جس کی پہلے شادی ایک دفعہ ہوچکی ہو) اپنے ولی کی نسبت اپنے نفس کی زیادہ حق دار ہے] نیز صریح حدیث موجود ہے: ’’وعن خنساء بنت خذام أن أباھا زوجھا،وھي ثیب،فکرھت ذلک،فأتت رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم فرد نکاحہ۔رواہ البخاري،وفي روایۃ ابن ماجہ:فرد نکاح أبیھا‘‘[2] [خنسا بنت خذام کا نکاح اس کے باپ نے زبردستی کر دیا۔یہ ثیبہ تھی،اس کو یہ نکاح ناپسند تھا،وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح باطل کر دیا] دوسرے سوال کا جواب: ’’ومن شرائط النکاح رضا المرأۃ إذا کانت بالغۃ،بکرا کانت أو ثیبۃ،فلا یملک الولي إجبارھا علیٰ النکاح،ومن شرائط النکاح الشھادۃ عندنا‘‘ (فتاویٰ قاضی خان،مطبوعہ مصر،ص:۲۸۳) [نکاح کی شرائط میں سے عورت کی رضا مندی بھی ہے،جب کہ وہ بالغہ ہو،خواہ کنواری ہو یا ثیبہ ولی،اس کو نکاح پر مجبور نہیں کر سکتا۔نکاح کی شرائط میں سے ہمارے نزدیک شہادت بھی ہے] تیسرے سوال کا جواب: ’’نفذت نکاح حرۃ مکلفۃ بلا ولي ولا تجبر بکر بالغۃ علی النکاح‘‘ (کنز الدقائق،ص:۹۷) [1] مشکاۃ المصابیح (۲/ ۲۰۹) نیز دیکھیں:صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۴۲۱) [2] مشکاۃ المصابیح (۲/ ۲۰۹) نیز دیکھیں:صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۸۴۵) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۱۸۷۳)