کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 337
کذا في العالمگیریۃ۔ [ولی غائب ہو یا چھوٹا ہو یا باپ دادا ہو،لیکن فاسق ہو تو قاضی کو اختیار ہے کہ اس کا نکاح کفو سے کر دے] جب باپ دادا فاسق کی ولایت باقی نہیں رہتی ہے تو چچا فاسق بے ہودہ غیر مشفق کیونکر ولی رہ سکتا ہے؟ واللّٰه تعالیٰ أعلم وعلمہ أتم۔ حررہ الفقیر:ابو عبد المجید السید عبد الحمید محمدی،عفا اﷲ عنہ (۱۸/ محرم ۱۳۱۷ھ) هو الموافق صورتِ مسئولہ میں از روئے حدیث کے نابالغہ مذکورہ کے نکاح کی ولایت نہ اس کے چچا کو ہے اور نہ اس کی والدہ کو۔چچا کو تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ مرشد نہیں ہے،بلکہ فاسق و فاجر اور بے ہودہ شخص ہے اور ولی کا مرشد ہونا ضروری ہے۔قال في سبل السلام (۶/ ۶۵): ’’خرج سفیان في جامعہ،ومن طریقہ الطبراني في الأوسط بإسناد حسن،عن ابن عباس بلفظ:لا نکاح إلا بولي مرشد أو سلطان‘‘ [حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ ولی مرشد یا بادشاہ کے سوا نکاح نہیں ہے] اور اس کی والدہ کی ولایتِ نکاح اس وجہ سے نہیں ہے کہ نکاح کی ولایت عورت کو حاصل نہیں ہے۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(( لا تزوج المرأۃ نفسھا )) [1] رواہ ابن ماجہ والدارقطني ورجالہ ثقات۔کذا في بلوغ المرام۔قال في سبل السلام (۲/ ۶۵):فیہ دلیل علیٰ أن المرأۃ لیس لھا ولایۃ النکاح في الإنکاح لنفسھا و لا لغیرھا فلا عبارۃ لھا في النکاح إیجاباً ولا قبولا،وھو قول الجمھور‘‘ انتھیٰ۔ [عورت کسی عورت کا نکاح نہیں کرا سکتی اور نہ اپنا نکاح کر سکتی ہے۔نکاح کے ایجاب و قبول میں اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے،ولی کی اجازت کے بعد بھی وہ اپنا یا کسی اور عورت کا نکاح خود نہیں کراسکتی نہ اصالتاً نہ وکالتاً،جمہور کا یہی مذہب ہے] پس صورتِ مسئولہ میں نابالغہ مذکورہ کا نکاح نہ بولایت اس کے چچا کے درست ہے اور نہ بولایت اس کی والدہ کے۔اگر چچا کے سوا کوئی اور اس نابالغہ کا ولی موجود ہو اور مرد صالح ہو،فاسق و فاجر نہ ہو تو وہ ولی ہوسکتا ہے اور اگر اس کا کوئی ولی موجود نہ ہو تو اس صورت میں نابالغہ مذکورہ کی والدہ کسی مرد صالح کو اجازت دے دے کہ وہ نابالغہ مذکورہ کا نکاح پڑھا دے،کیونکہ ولی کے نہ ہونے کی صورت میں ولایت سلطان کو حاصل ہوتی ہے اور اس زمانے میں سلطان،یعنی حاکم مسلمان نہیں ہے،لہٰذا مجبوراً نابالغہ کی والدہ کسی مرد صالح کے ذریعے سے نکاح پڑھوا دے گی تو بلاشبہہ جائز ہوگا۔واللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب۔کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] [1] سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۱۸۸۲) سنن الدارقطني (۳۲۷) بلوغ المرام (۹۹۳) [2] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۳۸۵)