کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 335
جواب:صغیرین کی خیر خواہی اور شفقت پر عند الشرع ولایت مبنی ہے،کیونکہ نابالغوں کی عقل ناقص اور غیر مکمل ہوتی ہے۔اگر ان کو اختیارِ تصرف ہو تو بے عقلی کے سبب سے اپنا نقصان کر ڈالیں،لہٰذا سارے تصرفات جانی اور مالی مثل انتقال جائداد سے شرع نے محجور فرمایا اور ایسے شخصوں کے سپرد کیا،جو سب سے زیادہ شفیق و خیر خواہ و عاقل ہوں اور مضرت سے ذات و جائداد نابالغ کو بچائیں،اسی لحاظ سے مسرف و احمق بے عقل و بے ہودہ شخص کو بھی شارع نے سارے تصرفات سے منع کر دیا ہے،کیونکہ عدمِ ممانعت بلحاظ مآل اندیشی مثمر مورث اضرار نابالغ ہے۔ ’’قال أبو حنیفۃ رحمه اللّٰه:لا یحجر علیٰ الحر العاقل البالغ السفیہ،وتصرفہ في مالہ جائز،و إن کان مبذرا مفسدا یُتلِف مالہ فیما لا غرض لہ فیہ ولا مصلحۃ۔وقال أبو یوسف رحمه اللّٰه و محمد رحمه اللّٰه،وھو قول الشافعي رحمه اللّٰه:یحجر علیٰ السفیہ،ویمنع من التصرف في مالہ،لأنہ مبذر مالہ،یصرفہ لا علی الوجہ الذي یقتضیہ العقل فیحجر علیہ نظرا لہ اعتبارا بالصبي،بل أولی،لأن الثابت في حق الصبي احتمال التبذیر،وفي حقہ حقیقۃ،ولھذا منع عنہ المال‘‘[1] کذا في الھدایۃ،باب الحجر للفساد۔ [امام ابو حنیفہ نے کہا:بالغ عقل کے زمانے کو پہنچ کر بھی بے وقوف رہے تو اس کا مال اس کے سپرد کر دو،جس طرح چاہے اپنے مال میں تصرف کرے،اگرچہ وہ فضول خرچ ہو،غیر ضروری کاموں میں اپنا مال صَرف کر دے۔ابو یوسف،محمد اور شافعی نے کہا ہے:بے وقوف کو اپنے مال میں تصرف کرنے سے روک دیا جائے گا،جو خلافِ عقل کاموں میں اپنا مال تباہ کرے،اس کو بچے پر قیاس کیا جائے گا،بلکہ اس سے بھی زیادہ،کیوں کہ بچے میں تو صرف فضول خرچی کا احتمال ہے اور یہاں یقین ہے] ولی کی تعریف یہ ہے:’’ھو لغۃ:خلاف العدو۔و شرعا:البالغ العاقل الوارث۔[2] کذا في الدر المختار،ولنا ما ذکرنا من تحقق الحاجۃ و وفور الشفقۃ‘‘[3] کذا في الھدایۃ،باب الأولیاء والأکفاء۔[4] [ولی کا معنی لغت میں ’’دشمن برعکس‘‘ ہے اور شریعت میں وہ وارث ہے،جو عاقل اور بالغ ہو نیز اس میں شفقت اور حاجت کا اعتبار بھی ہے] اسی لحاظ سے ولی بالغ عاقل کو بنایا گیا ہے۔بے ہودہ شریر کو ولایت نہیں ہے کہ جس کی ولایت سے نابالغ کو مضرت مالی و جسمی پہنچے اور شرع نے اجازت نہیں دی،جیسا کہ صغیرین کے مال کو عاریتاً دینا یا ہبہ کرنا یا اس کے مال سے قرض لینا۔ ’’ولیس للأب إعارۃ مال طفلہ لعدم البدل‘‘ کذا في الدر المختار شرح تنویر الأبصار، [1] الھدایۃ (۳/ ۲۸۱) [2] الدر المختار مع رد المحتار (۳/ ۵۴) [3] الھدایۃ (۱/ ۱۹۸) [4] الدر المختار (۵/ ۶۸۴)