کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 334
چاہئیں اور صورتِ مسئولہ میں ولی کے علاوہ دو گواہ نہیں ہیں،بلکہ ولی کے علاوہ صرف دو عورتیں ہیں،جو قائم مقام ایک گواہ کے ہیں،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں ایک گواہ اور ہونا چاہیے،تب نکاح صحیح ہو گا،صرف ولی اور دو عورتوں کے حاضر ہونے سے نکاح صحیح نہیں ہوگا۔ہاں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث مذکور کے علاوہ اور احادیث بھی اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ نکاح کے انعقاد کے لیے ولی کے علاوہ دو گواہ ہونے چاہئیں۔منتقیٰ میں ہے: ’’عن عائشۃ رضي اللّٰه عنها قالت:قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم لا نکاح إلا بولي وشاھدي عدل‘‘[1] [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا] ’’نیل الأوطار‘‘ (۶/ ۳۴) میں ہے: ’’عن أبي ھریرۃ مرفوعاً و موقوفاً عند البیھقي بلفظ:لا نکاح إلا بأربعۃ:خاطب،و ولي،وشاھدین،وفي إسنادہ المغیرۃ بن موسی البصري۔قال البخاري:منکر الحدیث،وعن عائشۃ غیر حدیث الباب عند الدار قطني بلفظ:لا بد في النکاح من أربعۃ:الولي،والزوج،وشاھدین،وفي إسنادہ أبو الخصیب نافع بن میسرۃ مجھول۔وروی نحوہ البیھقي في الخلافیات عن ابن عباس موقوفاً وصححہ،وابن أبي شیبۃ بنحوہ عنہ أیضاً،وعن أنس أشار إلیہ الترمذي‘‘[2] انتھیٰ،واللّٰه تعالیٰ أعلم [بیہقی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً اور موقوفاً روایت ہے کہ چار آدمیوں کی موجودگی کے بغیر نکاح نہیں ہے:جس کا نکاح ہونا ہو،ولی اور دو منصف گواہ۔اس کی سند میں مغیرہ بن موسیٰ سخت ضعیف ہے۔ایک روایت میں ہے:نکاح میں چار آدمی ضروری ہیں:ولی خاوند اور دو گواہ۔اس کی سند میں ابو خصیب بیہقی نے خلافیات میں ابن عباس سے اسے روایت کیا ہے اور اسے صحیح کہا ہے،ابن ابی شیبہ نے بھی ان سے اسی طرح روایت کیا ہے اور انس کی روایت کی طرف ترمذی نے اشارہ کیا ہے ] کتبہ:محمد عبد الرحمن المباکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[3] ولایتِ نکاح کا حق دار کون ہے؟ سوال:زید ایک نابالغہ لڑکی اور ہندہ زوجہ اپنی کو چھوڑ کر مر گیا۔خالد اس کا بھائی کبھی نابالغہ کی پرورش یا خبرگیری میں شریک ہندہ نہیں رہا اور علاحدہ رہتا رہا ہے۔ہندہ نے اس کی پرورش کی ہے۔خالد ایک فاسق و فاجر اور بے ہودہ شخص ہے،اب اس نابالغہ کا نکاح بولایتِ مسماۃ ہندہ اس کی والدہ حقیقی ولیہ کے عند الشرع جائز ہے یا نہیں ؟ [1] سنن الدارقطني (۳/ ۲۲۱) [2] نیل الأوطار (۶/ ۱۸۶) [3] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۳۷۱)