کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 333
الحمد للّٰه رب العالمین۔ حررہ العبد الضعیف الفقیر الحقیر:أبو الطیب محمد شمس الحق العظیم آبادی،عفا اللّٰه عنہ وعن آبائہ وأشیاخہ،و ستر عیوبھم،ورحم علیھم ورضي عنھم۔آمین محمد ادریس محمد ایوب عبد الفتاح بعد حمد و صلوۃ کے واضح ہو کہ مجیب سلمہ اﷲ تعالیٰ نے جو کچھ لکھا ہے،ٹھیک ہے۔جزاہ اللّٰه تعالیٰ خیراً،اس طور پر نکاح ہونا جیسا سوال میں لکھا ہے،شرعاً صحیح اور درست ہے،کیونکہ نکاح میں حدیثوں کی رو سے بہت ضروری امر ولی کا ہونا ہے،سو اس سوال میں صاف مذکور ہے کہ عورت نے اپنے قرابت میں سے ایک شخص کو ولی بنا دیا۔ولی کے واسطے جو علما نے عصبہ ہونے کی قید لگائی ہے،وہ کسی آیت یا حدیث سے نہیں پائی جاتی اور یہ بات سب کی مانی ہوئی ہے کہ قرآن و حدیث کے مقابلے میں کسی اور کا قول و فعل شرعی حجت نہیں ہے۔دوسری شرط گواہوں کا ہونا ہے،سو گواہ بقدر ضرورت نکاح کے جلسے میں حاضر ہوں گے،یعنی ایک مرد اور دو عورتیں،اور گواہی کے معتبر ہونے کے واسطے اتنا نصاب کافی ہے،جیسا کہ مجیب سلمہ اﷲ تعالیٰ نے لکھا ہے،دارقطنی ابواب النکاح (صفحہ:۴۲۵) میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:’’قال:إذا کان ولي المرأۃ مضارا فولت رجلا فأنکحھا فنکاحہ جائز‘‘[1] یعنی وہ کہتے ہیں کہ جب عورت کے ولی عورت کی مخالفت کریں،یعنی نکاح سے روکیں یا معقول جگہ میں کرنے نہ دیں،اس صورت میں اگر عورت کسی شخص کو اپنا ولی بنا لے اور وہ اس کا نکاح کر دے تو وہ نکاح جائز ہے۔ ایک عورت کا باپ زندہ تھا،مگر وہاں موجود نہیں تھا تو عورت کی والدہ نے نکاح کرا دیا۔جب عورت کا باپ آیا تو اس نے نکاح سے بیزاری اور ناخوشی ظاہر کی،مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس نکاح کو جائز رکھا۔یہ روایت بھی دارقطنی کے صفحہ مذکور میں موجود ہے۔[2] پس ان روایتوں سے معلوم ہوا کہ ولی کے واسطے قرابت مند ہونے کی بھی شرط نہیں ہے،عصبہ ہونے کی بھی شرط نہیں ہے۔باقی رہا اعلان عام تو اس کی یہ بات ہے کہ اولیٰ ہے کہ اعلان عام ہو،ورنہ نکاح کے جواز کی شرط یا قید نہیں ہے،جیسا کہ دارقطنی کی ان دونوں روایتوں سے ظاہر ہوا۔واﷲ أعلم بالصواب۔ حررہ العاجز:حمید اﷲ،عفی عنہ،ساکن سراوہ،ضلع میرٹھ سید محمد نذیر حسین صورت مرقومہ میں موافق مسلک اول و ثالث کے نکاح صحیح و درست ہے۔کتبہ:محمد بشیر عفي عنہ هو الموافق جواب اول میں مسند شافعی سے جو ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث نقل کی گئی ہے:(( لا نکاح إلا بشاھدي عدل وولي مرشد )) اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کی صحت کے لیے ولی کے علاوہ دو گواہ ہونے [1] سنن الدارقطني (۳/ ۳۲۴) [2] مصدر سابق۔