کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 331
کی ولادت کے امور اور ان کے عیوب۔اسی طرح سے زیلعی کی ’’نصب الرایۃ في تخریج أحادیث الھدایۃ‘‘ اور حافظ ابن حجر کی ’’الدرایۃ‘‘ میں ہے] مگر زہری کی یہ روایت مرسل ہے،قابلِ حجت نہیں۔نیز یہ الفاظ ’’ولا في النکاح ولا في الطلاق‘‘ مالک سے محفوظ نہیں اور حجاج بن ارطاۃ راوی مدلس ہے،بلکہ کتاب الخراج لابی یوسف القاضی ومصنف ابن ابی شیبۃ وعبدالرزاق میں ’’ولا في النکاح‘‘ کا جملہ ہی نہیں ہے۔ وأخرج الإمام الشافعي في مسندہ:’’أخبرنا الثقۃ عن ابن جریج عن عبد الرزاق بن القاسم عن أبیہ قال:کانت عائشۃ رضي اللّٰه عنها یخطب إلیھا المرأۃ من أھلھا فتشھد،فإذا بقیت عقدۃ النکاح،قالت لبعض أھلھا:زوج،فإن المرأۃ لا تلي عقدۃ النکاح‘‘[1] انتھیٰ [امام شافعی نے اپنی مسند میں تخریج کی ہے کہ ہمیں ثقہ راوی نے ابنِ جریج کے واسطے سے بتایا،انھوں نے عبد الرزاق بن قاسم کے واسطے سے اور انھوں نے اپنے والد سے کہ انھوں نے کہا کہ حضرت عائشہ کے پاس ان کے خاندان کی کسی عورت کے لیے پیغامِ نکاح لایا جاتا تو وہ حاضر ہوتیں اور جب نکاح کا عقد باقی رہ جاتا تو گھر والوں کو کہتیں کہ اس کا نکاح کر دو،کیونکہ عورت نکاح نہیں کرا سکتی] اس روایت میں امام شافعی کے شیخ کا نام مذکور نہیں ہے،پس علی قاعدۃ المحدثین سند اس کی صحیح نہیں ہوئی۔قطع نظر اس کے کہ حکم عام قرآن شریف کی تخصیص کے لیے حدیث صحیح مر فوع چاہیے،نہ کہ اثر موقوف صحابہ،اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک عورت کی شہادت نکاح میں جائز ہے،پس ایک مرد و دو عورت کی گواہی نکاح میں درست ہو گی،یہی مسلک از روئے دلیل کے قوی ہے۔قال اﷲ تبارک وتعالی: {وَاسْتَشْھِدُوْا شَھِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِکُمْ فَاِنْ لَّمْ یَکُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّھَدَآئِ} [البقرۃ:۲۸۲] [اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اور اپنے میں سے دو دوگواہ رکھ لو،اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنھیں تم گواہوں میں سے پسند کرلو] صحیح بخاری وغیرہ میں ہے: ’’عن أبي سعید قال:قال النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم:ألیس شھادۃ المرأۃ مثل نصف شھادۃ الرجل؟ قلن:بلی،قال:فذلک من نقصان عقلھا‘‘[2] [1] مسند الشافعي (ص:۳۵۹) اصل کتاب میں مذکور حدیث کی سند میں ’’عبدالرزاق بن القاسم‘‘ کے بجائے ’’عبدالرحمن بن القاسم‘‘ ہے اور یہی درست ہے۔ [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۲۵۱۵) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۷۹،۸۰)