کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 33
محدث العصر علامہ محمد عبدالرحمن محدث مبارک پوری رحمہ اللہ [1] ۱۲۸۳ / ۱۳۵۳ھ = ۱۸۶۵/ ۱۹۳۵ء مبارک پور،اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ کا ایک نہایت مردم خیز خطہ ہے،جہاں کے علما و فضلا نے اپنی خداداد صلاحیتوں،خلوص،علم و فضل،تحقیق و دانش،تقویٰ و طہارت،زہد و ورع،خلوص و للّٰہیت،قلم و قرطاس،تعلیم و تربیت اور دعوت و ارشاد کی بدولت عالمی شہرت پائی۔ مبارک پور کے علماے کرام گمنامی کی صفوں سے اٹھے،اپنے خلوص،مسلسل محنت اور علمی خدمات کی بدولت شہرت کے آسمان تک پہنچے۔خصوصاً حافظ عبد الرحیم مبارک پوری رحمہ اللہ (المتوفی ۱۳۳۰ھ /۱۹۱۲ء)،مولانا عبد السلام مبارک پوری رحمہ اللہ صاحبِ ’’سیرۃ البخاري‘‘ (المتوفی ۱۳۴۲ھ/۱۹۲۴ء)،مولانا عبدالرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ صاحبِ ’’تحفۃالأحوذي‘‘ (المتوفی ۱۳۵۳ھ /۱۹۳۵ء)،مولانا عبید اللہ رحمانی مبارک پوری رحمہ اللہ صاحبِ ’’مرعاۃ المفاتیح‘‘ (المتوفی ۱۴۱۴ھ / ۱۹۹۴ء) رحمہم اللہ،مولانا عبید الرحمن بن عبدالسلام مبارک پوری،مولانا حکیم محمد بشیر بن عبد المجید،مولانا نذیر احمد دہلوی رحمانی،مولانا محمد امین مبارک پوری،مولانا عبد الصمد مبارک پوری رحمہم اللہ یہ وہ باکمال شخصیتیں ہیں،جن کی تدریس و تعلیم اور نیکی و تقوے کی وجہ سے سیکڑوں علما نے فیوض وبرکات حاصل کیں۔ مولانا عبد السلام مبارک پوری رحمہ اللہ کی ’’سیرۃ البخاري‘‘ اور مولانا عبد الرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ کی ’’تحفۃ الأحوذي‘‘ اور اس کا مقدمہ اور موصوف کی ’’أبکار المنن في تنقید آثار السنن‘‘،’’کتاب الجنائز‘‘ اردو میں،مولانا نذیر احمد رحمانی صاحب کی ’’رکعاتِ تراویح‘‘ اور ’’اہلِ حدیث و سیاست‘‘ مولانا عبیداللہ رحمانی مبارک پوری رحمہ اللہ کی ’’مرعاۃ المفاتیح‘‘ نے پورے عالمِ عرب،بلکہ پورے عالمِ اسلام میں اپنے اثرات مرتب کیے۔ان کی علمی کاوشوں سے مبارک پور ایک زندہ جاوید قصبہ بن گیا۔برصغیر پاک و ہند ہی نہیں،بلکہ عالمِ عرب میں کون سا ایسا عالم ہے،جو ان کے علمی و دینی اور تحقیقی کارناموں سے نا آشنا ہو۔سچی بات یہ ہے کہ علماے مبارک پور کا نام سنتے ہی ادب و احترام سے آنکھیں جھک جاتی ہیں،ماتھا تن جاتا ہے اور سر فخر سے اونچا ہو جاتا ہے۔ مبارک پور ہی کے مولانا قاضی اطہر مبارک پوری رحمہ اللہ (المتوفی ۱۹۹۶ء) کو بھی ان کی محققانہ،عالمانہ اور مورخانہ [1] مولانا مبارک پوری رحمہ اللہ کے سوانح سے متعلق یہ مضمون ملک عبدالرشید عراقی صاحب کی تصنیف ’’تذکرہ مولانا محمد عبدالرحمن مبارک پوری‘‘ سے ماخوذ ہے،جو دار ابی الطیب گوجرانوالہ نے شائع کی ہے۔