کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 328
[زرقانی نے موطا کی شرح میں کہا ہے:ابو عمر نے کہا کہ ہمارے اصحاب نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔بعض نے کہا ہے کہ ان میں سے ہر ایک اس کا نکاح کرواسکتا ہے اگر وہ نیک اور برابر کے شخص سے کرے۔کچھ دوسرے کہتے ہیں:یہ تینوں اشخاص بالترتیب مجاز ہیں ] ’’مغني المحتاج شرح المنھاج‘‘ میں ہے: ’’لوعدم الولي والحاکم فولت مع خاطبھا أمرھا رجلا مجتھداً،لیزوجھا منہ صح،لأنہ محکم،والمحکم کالحاکم،وکذا لو ولت عدلا صح علی المختار،وإن لم یکن مجتھدا،لشدۃ الحاجۃ إلی ذلک۔قال في المھمات:ولا یختص ذلک بفقد الحاکم،بل یجوز مع وجودہ سفراً وحضراً،بناء اً علی الصحیح في مجاز التحکیم‘‘[1] انتھیٰ [ولی اور حاکم کی عدم موجودگی میں اس کی ولایت کسی مجتہد شخص کی طرف منتقل ہوجائے گی جو پیغام نکاح دینے والے کے ساتھ اس کی شادی کر دے تو یہ شادی درست ہوگی۔کیونکہ وہ محکم ہے اور محکم حاکم کی طرح ہوتا ہے۔اسی طریقے سے اگر کوئی عادل ولی ہوجاتا ہے تو بھی صحیح بات یہ ہے کہ یہ نکاح درست ہو گا،اگرچہ وہ مجتہد نہ ہو،اس بنا پر کہ نکاح کی شدید حاجت ہوتی ہے۔انھوں نے ’’المھمات‘‘ میں کہا ہے کہ حاکم کی عدمِ موجودگی سے اسے مختص نہیں کیا جائے گا،بلکہ اس کی موجودگی ہی میں سفر و حضر کی حالت میں جائز ہو گا] نیز ’’مغني المحتاج‘‘ میں ہے: ’’وکذا یزوج السلطان إذا عضل النسیب القریب،وإنما یحصل العضل من الولي إذا دعت بالغۃ عاقلۃ إلی کفو،و امتنع الولي من تزویجہ لأنہ إنما یجب علیہ تزویجھا من کفو‘‘[2] انتھیٰ [اسی طرح سے سلطان شادی کرا سکتا ہے جب کہ قریبی نسب والا اس کی شادی میں رکاوٹ ڈالے،ولی کی طرف سے عضل اور رکاوٹ یہ ہے کہ جب بالغہ عاقلہ عورت کفو کے ساتھ نکاح کا مطالبہ کرے اور ولی اس کی شادی کرانے سے گریزاں ہو،کیونکہ ولی پر کفو کے ساتھ کی شادی کرانا واجب ہے] اور ’’کشاف القناع‘‘ میں ہے: ’’فإن عدم الولي مطلقاً بأن لم یوجد أحد،أو عضل ولیھا،ولم یوجد غیرہ،زوجہا ذو سلطان في ذلک المکان،کوالي البلد أو کبیرہ أو أمیر القافلۃ ونحوہ،لأن لہ سلطۃ،فإن تعذر ذو سلطان في ذلک المکان،زوجھا عدل بادیتھا‘‘[3] انتھیٰ [1] مغني المحتاج (۳/ ۱۴۷) [2] مغني المحتاج (۳/ ۱۵۳) [3] کشاف القناع (۵/ ۵۲)