کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 327
نکاح کرلے تو اس کا نکاح باطل ہے۔اگر یہ آپس میں جھگڑ پڑیں تو سلطان اس کا ولی ہے،جس کا کوئی ولی نہیں۔چاروں نے سوائے نسائی کے اس کی تخریج کی ہے اور ابو عوانہ،ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ایسا ہی ’’بلوغ المرام‘‘ میں ہے] وقال في سبل السلام:’’قال ابن کثیر:وصححہ یحییٰ بن معین من الحفاظ،والمراد بالاشتجار منع الأولیاء من العقد علیہا،وھذا ھو العضل،وبہ تنتقل إلی السلطان إن عضل الأقرب،قیل:بل تنتقل إلی الأبعد،و انتقالہا إلی السلطان مبني علی منع الأقرب والأبعد،وھو یحتمل أن السلطان ولي من لا ولي لھا لعدمہ،أو لمنعہ،ومثلھا غیبۃ الولي،ثم المراد بالسلطان من إلیہ الأمر‘‘[1] انتھیٰ [’’سبل السلام‘‘ میں کہا ہے کہ ابن کثیر نے کہا:یحییٰ بن معین جو حفاظ میں سے ہیں،انھوں نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔اشتجار (جھگڑا) سے مراد اولیا کا اس عورت کا نکاح کرنے سے انکار کرنا ہے۔ایک قول یہ ہے کہ (ولایت) دور کے اولیا کے پاس منتقل ہوجائے گی اور اس کی ولایت سلطان کے پاس اس وقت منتقل ہوگی جب کہ قریب اور دور کے رشتے دار سبھی اس کے نکاح میں رکاوٹ ڈالیں۔یہی مطلب ہے (اس حدیث کا) کہ سلطان اس کا ولی ہے جس کاکوئی ولی نہیں۔نہ ولی کے نہ ہونے کی صورت میں یا اس کے انکار کرنے کی صورت میں ہے۔اس کی مثال ولی کے غائب ہونے جیسی ہے۔پھر سلطان سے مراد وہ ہے جو امور کا نگران ہو] اور موطا اما م مالک میں ہے: ’’عن سعید بن المسیب أنہ قال:قال عمر بن الخطاب:لا تنکح المرأۃ إلا بإذن ولیھا أو ذي الرأي أو السلطان‘‘[2] انتھیٰ [سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا:عورت کا نکاح اس کے ولی یا صاحبِ رائے یا سلطان کی اجازت کے بغیر نہیں کیا جائے گا] وقال الزرقاني في شرح الموطأ:’’قال أبو عمر:اختلف أصحابنا في قول عمر ھذا،فقال بعضہم:کل واحد من ھؤلاء یجوّز إنکاحہ إذا أصاب وجہ النکاح من الکفو والصلاح۔وقال آخرون:علی الترتیب لا التخییر‘‘[3] انتھیٰ [1] سبل السلام (۳/ ۱۱۸) [2] موطأ الإمام مالک (۲/ ۵۲۵) [3] شرح الزرقاني (۳/ ۱۶۵)