کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 326
آخر عن ابن خثیم بسندہ مرفوعا بلفظ:لا نکاح إلا بإذن ولي مرشد وسلطان۔قال:المحفوظ الموقوف،ثم رواہ من طریق الثوري عن ابن خثیم بہ،ومن طریق ابن الفضل عن ابن خثیم بسندہ مرفوعا بلفظ:لا نکاح إلا بولي وشاھدي عدل،فإن أنکحھا ولي مسخوط علیہ فنکاحھا باطل،وعدي ضعیف‘‘[1] انتھیٰ [صالح ولی اور دو عادل گواہوں کی اجازت کے بغیر نکاح درست نہیں ہے۔اس کی تخریج شافعی اور بیہقی نے ابن خثیم کے طریق سے انھوں نے سعید بن جبیر کے واسطے سے موقوفاً کی ہے۔بیہقی نے اس کو دوسرے طریق سے ابن خثیم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ مرفوعاً ان الفاظ میں کہ نکاح بغیر ولی مرشد اور سلطان کے درست نہیں ہے،کہا ہے کہ محفوظ موقوف ہے۔پھر اس کو ثوری کے طریق سے ابن خثیم کے واسطے سے اور ابن الفضل کے طریق سے ابن خثیم کے واسطے سے سند مرفوع کے ساتھ ان الفاظ میں رایت کیا ہے کہ نکاح ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر درست نہیں ہے۔اگر عورت کے ناپسندیدہ ولی نے اس کا نکاح اپنی مرضی سے کر دیا تو اس کا نکاح باطل ہو گا۔اس میں عدی ضعیف ہیں ] ’’رحمۃ الأمۃ‘‘ میں ہے: ’’ولا ولایۃ للفاسق عند الشافعي وأحمد،و قال أبوحنیفۃ و مالک:الفسق لا یمنع الولایۃ ‘‘ انتھیٰ [امام شافعی اور احمد کے نزدیک فاسق کی ولایت درست نہیں ہے اور امام ابو حنیفہ اور مالک کہتے ہیں کہ فسق ولایت میں رکاوٹ نہیں ] اگر فاسق کی ولایت بعض ائمہ کی رائے کے مطابق تسلیم بھی کرلی جائے تب بھی ولایت اس عورت کی باپ سے منتقل ہو جائے گی،کیونکہ باپ اس عورت کا باعث اپنے فسق کے عاضل ہے،یعنی مانع نکاح ثانی سے ہے اور اس کو برا سمجھتا ہے،جبکہ عورت کو نکاح کرنے کی ضرورت ہے،پس اس صورت میں اگر کوئی دوسرا ولی بعید بھی موجود نہ ہو،اگر موجود بھی ہو مگر وہ بھی اجازت نہیں دیتا تو اب وہ عورت ایک مرد دین دار کو اپنا ولی قرار دے کر بہ ولایت اس رجل صالح کے اپنا نکاح کر لے۔ ’’عن عائشۃ رضي اللّٰه عنها قالت:قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:أیما امرأۃ نکحت بغیر إذن ولیھا فنکاحھا باطل،فإن اشتجروا فالسلطان ولي من لا ولي لھا‘‘ أخرجہ الأربعۃ إلا النسائي،وصححہ أبو عوانۃ وابن حبان والحاکم،کذا في بلوغ المرام۔[2] [عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کوئی بھی عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر [1] تلخیص الحبیر (۳/ ۳۵۲) [2] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۲۰۸۳) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۱۰۲) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۱۸۷۹)