کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 325
سب سے صحیح چیز ہے۔بویطی میں شافعی کے واسطے سے منقول ہے کہ انھوں نے کہا کہ مرشد سے مراد حدیث میں عدل ہے] ’’کشاف القناع شرح الإقناع‘‘ للشیخ منصور بن إدریس الحنبلي میں ہے: ’’ویشترط في الولي سبعۃ شروط:أحدھا:حریتہ،والثاني:ذکوریتہ،والثالث:اتفاق دین،والرابع:بلوغ،والخامس:عقل،والسادس:عدالۃ،لما روي عن ابن عباس:لا نکاح إلا بشاھدي عدل وولي مرشد۔قال أحمد:أصح شيء في ھذا قول ابن عباس،و روي عنہ مرفوعا:(( لا نکاح إلا بولي وشاھدَي عدل،وأیما امرأۃ أنکحھا ولي مسخوط علیہ فنکاحھا باطل )) ولأنھا ولایۃ نظریۃ فلا یستبد بھا الفاسق،ولو کان الولي عدلا وظاھرا فیکفي مستور الحال،لأن اشتراط العدالۃ ظاھراً وباطناً حرج ومشقۃ ‘‘[1] انتھیٰ [ولی کے لیے سات شرطیں ہیں:پہلی یہ کہ وہ آزاد ہو،دوسری یہ کہ وہ مردہو،تیسری یہ کہ دین ایک ہو،چوتھی یہ کہ وہ بالغ ہو،پانچویں یہ کہ وہ عقل وخرد کا مالک ہو اور چھٹی یہ کہ وہ عدل ہو۔ابن عباس کی روایت کی بنیاد پر کہ نکاح درست نہیں ہے مگر دو عادل گواہوں اور ایک نیک ولی کے ساتھ۔احمد نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں ابن عباس کا قول سب سے درست ہے اور ان سے مرفوعاً مروی ہے کہ بغیر ولی اور دو عادل گواہوں کے نکاح درست نہیں ہے اور جس کسی عورت کا نکاح ناپسندیدہ ولی نے کرا دیا تو اس کا نکاح باطل ہے۔کیونکہ یہ نظری ولایت ہے،فاسق اس کا انفراداً مالک نہیں بن سکتا۔اگر ولی بہ ظاہر عادل ہے تو یہ کافی ہے،کیونکہ ظاہر و باطن دونوں کی عدالت کی شرط میں مشقت اور حرج ہے] ایسا ہی ’’شرح منتھی الإرادات في الفقہ الحنبلي‘‘ میں ہے۔ وفي سبل السلام:’’أخرج الطبراني في الأوسط بإسناد حسن عن ابن عباس بلفظ:لا نکاح إلا بولي مرشد أو سلطان‘‘[2] انتھیٰ [سبل السلام میں ہے کہ طبرانی نے اوسط میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے حسن سند کے ساتھ تخریج کی ہے کہ نکاح ولی مرشد یا سلطان کے بغیر درست نہیں ہے] ’’تلخیص الحبیر‘‘ میں ہے: ’’حدیث ابن عباس ’’لا نکاح إلا بولي مرشد وشاھدي عدل‘‘ أخرجہ الشافعي والبیھقي من طریق ابن خثیم عن سعید بن جبیر عنہ موقوفا،وقال البیھقي بعد أن رواہ من طریق [1] کشاف القناع (۵/ ۵۳) [2] سبل السلام (۳/ ۱۱۸)