کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 324
اور بغیر ولی کے ثیبہ کے علاوہ باکرہ کا نکاح درست نہیں ہوگا] ’’رحمۃ الأمۃ في اختلاف الأئمۃ‘‘ میں ہے: ’’ولا یصح النکاح عند الشافعي وأحمد إلا بولي ذکر،و قال أبوحنیفۃ:للمرأۃ أن تزوج بنفسھا،و قال داود:إن کانت بکرا لم یصح نکاحھا بغیر ولي،وإن کانت ثیبا صح‘‘ انتھیٰ [شافعی اور احمد کے نزدیک مرد ولی کے بغیر نکاح درست نہیں ہوتا ہے اور ابوحنیفہ نے کہا ہے کہ عورت کو اختیار ہے کہ اپنا نکاح خود کرلے۔داود نے کہا ہے کہ اگر وہ باکرہ ہے تو ولی کے بغیر نکاح درست نہیں ہو گا اور اگر ثیبہ ہے تو درست ہو گا] پس مسلکِ اول تو ضعیف ہے اور مسلکِ ثانی و ثالث کی صحت پر ادلہ قویہ قائم ہیں۔ ویمیل خاطری إلی المسلک الثالث۔[ میرا دل تیسرے مسلک کی طرف مائل ہوتا ہے] پس بنا بریں مسلکِ ثالث کے اس عورت ثیبہ کو اختیار ہے کہ بغیر اذن اپنے باپ کے جس سے چاہے نکاح کرے اور بنا بر مسلکِ ثانی کے بھی وہ عورت کسی کو اپنے نکاح کا ولی بنا کر نکاح کر سکتی ہے،کیونکہ صورتِ مذکورہ سوال سے ظاہر ہے کہ باپ اس کا فاسق ہے اور ولی کا عادل ہونا امام شافعی و امام احمد کے نزدیک ضرور ہے۔پس فاسق کی ولایت جائز نہیں ہے،بلکہ اس کے باپ کی ولایت دوسری طرف منتقل ہو جا ئے گی۔ کتاب مسند الشافعی میں ہے: ’’أخبرنا مسلم بن خالد و سعید عن عبد اللّٰه بن عثمان بن خثیم عن سعید بن جبیر و مجاھد عن ابن عباس رضی اللّٰه عنہ قال:لا نکاح إلا بشاھدي عدل و ولي مرشد‘‘[1] انتھیٰ [ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ کوئی نکاح نہیں ہے مگر دو عادل گواہوں اور ایک ولی مرشد کے ساتھ] ’’مغنی المحتاج شرح المنہاج‘‘ للشیخ الخطیب الشربیني الشافعي میں ہے: ’’ولا ولایۃ لفاسق علی المذھب،بل تنتقل الولایۃ للأبعد،لحدیث ((لا نکاح إلا بولي مرشد )) رواہ الشافعي في مسندہ بسند صحیح،وقال الإمام أحمد:إنہ أصح شییٔ في الباب،و نقل عن الشافعي في البویطي أنہ قال:المراد بالمرشد في الحدیث العدل‘‘[2] انتھیٰ [راجح مذہب کے مطابق کسی فاسق کو ولایت کا حق حاصل نہیں ہے،بلکہ ایسی صورت میں ولایت دور کے رشتے دار کو منتقل ہو جائے گی۔اس حدیث کی بنیاد پر کہ ولی مرشد (نیک ولی) کے بغیر نکاح درست نہیں ہے۔اس کی روایت شافعی نے اپنی مسند میں سند صحیح سے کی ہے۔امام احمد نے کہا ہے کہ اس باب میں یہ [1] مسند الشافعي (۱/ ۳۶۰) [2] مغني المحتاج للشربیني (۳/ ۱۵۵)