کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 321
الولي ولا غیرہ،ولا تزوج غیرھا بولایۃ،ولا بوکالۃ،ولا یقبل النکاح بولایۃ ولا بوکالۃ،وھو قول الجمھور‘‘ انتھی واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ [اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت نکاح میں ولی نہیں بن سکتی اور اس کے ایجاب و قبول کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔وہ ولی کی اجازت کے باوجود بھی خود نکاح نہیں کر سکتی اور نہ کسی اور عورت کا نکاح کر سکتی ہے،نہ اصالتاً نہ وکالتاً اور نہ کسی نکاح کو قبول کر سکتی ہے نہ اصالتاً اور نہ وکالتاً اور جمہور کا یہی مذہب ہے] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] سید محمد نذیر حسین ولی کی اجازت کے بغیر لڑکی کا نکاح درست نہیں: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ دختر جوان بالغہ کا نکاح فقط اس کے اذن سے ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ اگر بغیر اذن کسی ولی کے نکاح اس کا ہوجائے تو درست ہے یا نہیں ؟ جواب:دخترِ بالغہ کا نکاح فقط اس دختر کے اذن سے صحیح اور درست ہے اور اذن باکرہ دختر کا یہی ہے کہ جب اس سے اذن نکاح کا لیا جائے تو وہ بولے یا خاموش رہے،اس کا سکوت بھی اذن ہے۔کسی ولی کا جبر اس پر درست نہیں،تمام فقہ کی کتابوں میں اس کی تصریح ہے۔واللّٰه أعلم بالصواب۔ رقمہ الفقیر:محمد حسین عفي عنہ (مورخہ:۲۳/ ربیع الثانی ۱۳۱۹ھ) موافق مذہب حنفی کے نکاح درست ہے،بشرطیکہ کفو میں ہو اور اگر غیر کفو میں ہو تو اس کے ولی کو نکاح فسخ کرانے کا اختیار باقی رہتا ہے۔راقم:سید ابو الحسن عفي عنہ هو الموافق موافق حدیث صحیح کے صورتِ مسئولہ میں اگر بغیر اذن ولی کے نکاح اس دختر جوان بالغہ کا ہوجائے تو صحیح اور درست نہیں ہوگا۔ ’’قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( لا نکاح إلا بولي )) رواہ أحمد والأربعۃ،وصححہ ابن المدیني والترمذي وابن حبان و أعل بالإرسال،وقال:(( أیما امرأۃ نکحت بغیر إذن ولیھا فنکاحھا باطل )) الحدیث۔أخرجہ الأربعۃ إلا النسائي وصححہ ابن عوانۃ و ابن حبان و الحاکم۔[2] کذا في بلوغ المرام۔ [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے،نیز فرمایا:جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے۔واللّٰه تعالیٰ أعلم [1] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۴۸۹) [2] بلوغ المرام (۹۸۸۔۹۸۹)