کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 320
دختروں کو بھی اپنی زندگی تک کنواری ہی رکھوں گا،مجھ کو عار معلوم دیتی ہے،اگر میں اپنی دختروں کا نکاح کروں تو مجھ کو گالی لگتی ہے،میں ہر گز نکاح نہ کروں گا۔چونکہ زمانہ کی رنگت گو نہ غیر مناسب ہے،دختروں کی والدہ کہتی ہے کہ میں بلا اجازت دختروں کے والد کے عقد شرعی باجازت دختر بالغہ کر دوں تو درست ہے یا نہیں ؟ جواب:صورتِ مذکورہ میں اگر دختر بالغہ کی والدہ شادی اس کی باجازت دختر معقول اور مناسب جگہ کر دے تو درست اور جائز ہے۔باپ اگر نکاح کرنے سے منع کرتا ہے،جیسا سوال میں مذکور ہے تو باپ کی ولایت باطل اور ساقط ہوگئی اور ولی اَبعد جو بالفعل والدہ ہے،ولی اقرب،یعنی والد کے قائم مقام ہوگئی اور والدہ کا عقد شرعاً جائز اور نافذ ہے،چنانچہ در مختار میں لکھا ہے: ’’ویثبت للأبعد من أولیاء النسب الترویج بعضل الأب أي بامتناعہ عن التزویج إجماعاً‘‘[1] یعنی نکاح کا اختیار ولی بعید کے لیے ثابت ہوجاتا ہے،جس وقت ولی قریب،یعنی باپ،مثلاً نکاح کرنے سے منع کرے،جیسا کہ سوال میں درج ہے۔عالمگیری میں لکھا ہے: ’’أجمعوا أن الأقرب إذا عضل تنتقل الولایۃ إلی الأبعد‘‘ پس صورتِ مذکورہ میں والدہ کا نکاح کیا ہوا جائز ہے اور شرعاً نافذ ہے۔ حررہ:یقال لہ إبراہیم فقیر محمد حسین هو الموافق یہ جواب فقہ حنفی کی رو سے صحیح ہے اور حدیث کی رو سے صورتِ مسئولہ میں والدہ کا عقد کرنا جائز نہیں،بلکہ اس صورت میں باپ سے ولایتِ نکاح منتقل ہو کر اس ولی بعید کو پہنچے گی،جو مرد ہو اور اگر کوئی ولی بعید نہ ہو تو حاکم کو پہنچے گی۔عورت نہ خود اپنا نکاح کر سکتی ہے اور نہ غیر کا کر سکتی ہے،خلاصہ یہ کہ کسی عورت کو ولایتِ نکاح حاصل نہیں ہے۔بلوغ المرام میں ہے: عن أبي ھریرۃ رضی اللّٰه عنہ قال:قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( لا تزوج المرأۃ المرأۃ،ولا تزوج المرأۃ نفسھا )) رواہ ابن ماجہ و الدارقطني،ورجالہ ثقات۔[2] [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عورت کسی اور عورت کا نکاح کرا سکتی ہے نہ اپنا۔ابن ماجہ اور دارقطنی نے اسے روایت کیا ہے اور اس کے روات ثقہ ہیں ] قال في سبل السلام (۲/ ۶۵):فیہ دلیل علیٰ أن المرأۃ لیس لھا ولایۃ في الإنکاح لنفسھا ولا لغیرھا،فلا عبارۃ لھا في النکاح إیجاباً ولا قبولا،فلا تزوج نفسھا بإذن [1] الدر المختار مع رد المحتار (۳/ ۸۲) [2] سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۱۸۸۲) سنن الدارقطني (۳۲۷) بلوغ المرام (۹۹۳)