کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 318
مشروع تو ضروری ہے لیکن یہ بات نہیں کہ بلا اعلان کے نکاح ہی صحیح نہ ہو۔خلاصہ یہ کہ صورتِ مسئولہ میں نکاح صحیح ہوا اور جب نکاح صحیح ہوا تو اس نکاح سے جو اولاد ہوئی ہے،اس کو ورثہ بھی ضروری ملے گا۔واللّٰه أعلم بالصواب۔حررہ:عبدالحق اعظم گڑھی،عفی عنہ۔ هو الموافق فقہ حنفی کی رو سے یہ نکاح بلاشبہہ صحیح ہوا،کیونکہ فقہائے حنفیہ کے ہاں عورت عاقلہ،بالغہ اپنا نکاح آپ بلا ولی کے کر سکتی ہے اور دو گواہ صحتِ نکاح کے لیے کافی ہیں،اگرچہ ان سے کہہ دیا گیا ہو کہ تم لوگ اس نکاح کو پوشیدہ رکھنا۔موطا امام محمد میں ہے: ’’باب نکاح السر۔أخبرنا مالک عن أبي الزبیر أن عمر أتي برجل في نکاح،لم یشھد علیہ إلا رجل وامرأۃ۔فقال عمر:ھذا نکاح السر،ولا نجیزہ،ولو کنت تقدمت فیہ لرجمت۔قال محمد:وبھذا نأخذ لأن النکاح لا یجوز في أقل من شاھدین،وإنما شھد علی ھذا الذي ردہ عمر:رجل وامرأۃ،فھذا نکاح السر،لأن الشھادۃ لم تکمل،ولو کملت الشھادۃ برجلین أو رجل وامرأتین،کان نکاحاً جائزاً،وإن کان سراً،وإنما یفسد نکاح السر أن یکون بغیر شھود فأما إذا کملت فیہ الشھادۃ فھو نکاح العلانیۃ،وإن کانوا أسروہ‘‘[1] انتھیٰ [حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی لایا گیا۔اس کے نکاح کے گواہ صرف ایک مرد اور ایک عورت تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:یہ پوشیدہ نکاح ہے،ہم اس کو جائز نہیں سمجھتے،اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا تو تجھے سنگسار کر دیتا۔امام محمد نے کہا:ہمارا یہی مذہب ہے،ہم دو گواہوں کے بغیر نکاح صحیح نہیں سمجھتے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کم گواہوں کے نکاح کو پوشیدہ نکاح کہا تھا۔اگر دو مردوں کی شہادت ہو یا ایک مرد اور دو عورتوں کی تو یہ نکاح جائز ہے،اگرچہ وہ اس کو پوشیدہ رکھیں،بغیر شہادتوں کے نکاح باطل ہے] رہا حدیث کی رو سے اس نکاح کا صحیح ہونا،سو اگر یہ نکاح بولایتِ ولی کے ہوا ہے تو بلاشبہہ صحیح ہے اور اگر بلا ولی کے اس عورت نے خود اپنا نکاح آپ کر لیا ہے تو صحیح نہیں ہوا۔واللّٰه تعالیٰ أعلم بالصواب۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] سید محمد نذیر حسین نکاح میں باپ کی اجازت اور ولایت ضروری ہے: سوال:زید کی عورت فوت ہوگئی اور وہ عورت ایک چھوٹی سی لڑکی حالتِ رضاع میں چھوڑ گئی۔زید نے وہ لڑکی اٹھا کر [1] موطأ الإمام محمد (۲/ ۴۴۶) [2] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۴۸۴)