کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 316
اب بہر صورت حسبِ کیفیت و صورت مندرجہ صدر زینب کس کی زوجہ منکوحہ رہے گی؟ جن جن اسباب و وجوہات مندرجہ سے جس کی منکوحہ از روئے کتاب اﷲ و سنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم رہتی ہے،اس کو تفصیل سے درج فرما کر عند اﷲ ماجور و عند الناس مشکور ہوں،مکرر آنکہ بصورت عدم جواز نکاح زید پھر زینب زید سے مہر و گزارہ لینے کی مستحق ہوسکتی ہے یا نہیں اور جبکہ حمل زینب کا ثبوت باقبال زید و زینب زید سے ہونا ثابت ہے تو پھر موجود کس کا وارث قرار پائے گا؟ حق پرورش و ترکہ زید سے شرعاً مستحق ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ جواب:صورتِ مسئولہ میں از روئے احادیثِ صحیحہ کے زینب کا پہلا نکاح صحیح نہیں ہوا،کیونکہ یہ نکاح بلا ولی کے ہوا ہے اور جس عورت کا نکاح بلا ولی کے ہو،وہ نکاح صحیح نہیں ہوتا۔منتقی الاخبار میں ہے: ’’عن أبي موسیٰ أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قال:(( لا نکاح إلا بولي )) وعن سلیمان بن موسیٰ عن الزھري عن عروۃ أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم قال:(( أیما امرأۃ نکحت بغیر إذن ولیھا فنکاحھا باطل فنکاحھا باطل فنکاحھا باطل،فإن دخل بھا فلھا المھر بما استحل من فرجھا فإن اشتجروا فالسلطان ولي من لا ولي لہ )) رواھما الخمسۃ إلا النسائي‘‘[1] [نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے‘‘ نیز فرمایا:’’جو عورت بغیر ولی کی اجازت کے نکاح کر لے،اس کا نکاح باطل ہے،باطل ہے،باطل ہے،اگر مرد اس سے صحبت کر چکا ہو تو حق مہر ادا کرے،اگر اختلاف ہوجائے تو بادشاہ اس کا ولی ہے،جس کا کوئی ولی نہیں۔‘‘ نسائی کے علاوہ خمسہ نے اسے روایت کیا ہے] زینب کا یہ پہلا نکاح اگرچہ صحیح و جائز نہیں ہوا،لیکن چونکہ وطی ہوچکی ہے،اس لیے زینب اپنا مہر مقرر زید سے لینے کی مستحق ہے،جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث مذکور سے ثابت ہے۔مولود زینب کا وارث قرار پائے گا اور زینب اس کی پرورش کی بھی مستحق ہے اور ترکہ زید سے وہ مولود میراث نہیں پا سکتا۔ رہا زینب کا دوسرا نکاح تو انھوں نے اس کی رضا و اجازت سے کیا ہے،جبکہ زینب کو اس سے انکار ہے اور وہ بجور و جبر نکاح پڑھانا بتلاتی ہے،پس اولیاے زینب اگر اپنے دعوے کے ثبوت میں معتبر گواہ پیش کریں اور ان کے بیان سے اپنے دعوے کو ثابت کریں تو اس صورت میں یہ نکاح صحیح ہوگا اور زینب بکر کی منکوحہ ٹھہرے گی،لیکن اگر اپنے دعوے کے ثبوت میں معتبر گواہ پیش نہ کر سکیں تو اس صورت میں زینب سے قسم لی جائے گی۔اگر اس نے قسم کھانے سے اعراض کیا تو اس صورت میں بھی یہ نکاح صحیح ہوگا اور زینب بکر کی منکوحہ ٹھہرے گی۔تاہم اگر اس نے قسم کھا لی کہ میرا یہ دوسرا نکاح میری رضا و اجازت سے نہیں ہوا ہے،بلکہ بجور و جبر پڑھایا گیا ہے تو اس صورت میں یہ نکاح صحیح نہیں [1] نیل الأوطار (۶/ ۱۷۸) نیز دیکھیں:سنن أبي داود،رقم الحدیث (۲۰۸۳) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۱۰۱) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۱۸۷۹) مسند أحمد (۱/ ۲۵۰)