کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 314
[علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بلاشبہہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم علی و فاطمہ کے پاس اس وقت آئے،جب وہ اپنی صوف کی ایک چادر میں تھے۔’’خمیل‘‘ صوف کی سفید چادر کو کہتے ہیں۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو یہ چادر،اذخر گھاس سے بھرا ہوا ایک تکیہ اور ایک مشک عنایت فرمائی تھی] خلاصہ ان روایتوں کا یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو صوف کی ایک سفید چادر اور ایک تکیہ اور ایک مشک،دو چکی اور دو گھڑے جہیز میں دیے۔واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه تعالیٰ عنہ۔[1] کیا ولی کی اجازت کے بغیر غیر کفو میں عورت کا خود نکاح کرنا درست ہے؟ سوال:اگر کوئی عورت خاندانی بلا رضا مندی و حیا کے غیر قوم میں نکاح کر لے اور ننگ و عار تمام خاندان پر کچھ لحاظ نہ کرے اور اس کے ولی اس پر سخت ناراض ہوں،کیونکہ عورت خاندان اہلِ علم سے ہے اور جس سے نکاح کیا ہے،وہ نہایت ذلیل،جاہل اور غیر قوم ہے،آیا یہ نکاح موجبِ فتویٰ شرع محمدی جائز ہے یا ناجائز؟ جواب:بموجبِ روایت مفتی بہ یہ نکاح غیر کفو میں ناجائز اور بالکل باطل ہے۔ ’’روی الحسن عن الإمام،وھو روایۃ عن أبي یوسف،عدم جوازھ أي عدم جواز نکاحھا إذا زوجت نفسھا بلا ولي في غیر الکفو،وبہ أخذ کثیر من مشائخنا،لأن کم من واقع لا یرفع،وعلیہ فتویٰ قاضي خان،وھذا أصح وأجود وأحوط،والمختار للفتویٰ في زماننا،إذ لیس کل ولي یحسن المرافعۃ ولا کل قاض یعدل،فسدّ ھذا الباب أولیٰ خصوصاً إذا ورد أمر السلطان ھکذا وأمر بأن یفتی بہ،وفي الفتح وغیرہ:لو زوجت المطلقۃ ثلاثا نفسھا بغیر کفو،ودخل بھا،لا تحل للأول۔قالوا:وینبغي أن تحفظ ھذہ فإن المحلل یکون في الغالب غیر کفو‘‘[2] من مجمع الأنھٰر مشرحۃ،وکذا في البحر الرائق۔ [امام ابو یوسف اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک یہ نکاح صحیح نہیں ہے کہ عورت اپنا نکاح کسی غیر کفو سے جو ادنیٰ درجے کا ہو کر آئے۔علماے احناف کا یہی مذہب ہے،کیوں کہ بہت سے واقعات ایسے ہوتے ہیں،جن کا مقدمہ دائر نہیں کیا جا سکتا اور اسی پر فتویٰ ہے،کیوں کہ ہمارے زمانے میں نہ تو ہر آدمی صحیح مقدمہ پیش کر سکتا ہے نہ ہر قاضی انصاف ہی کرتا ہے تو اس دروازے کو بند کر دینا ہی بہتر ہے،خصوصاً جب کہ بادشاہ نے بھی ایسا ہی حکم دیا ہو فتح الباری وغیرہ میں ہے:اگر عورت مطلقہ ثلاثہ غیر کفو کے ساتھ نکاح کرے اور وہ اس سے صحبت کرے تو وہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال نہ ہو گی،نیز یہ خیال رکھنا [1] مجموعہ فتاویٰ غازی پوری (ص:۳۹۳) [2] مجمع الأنھر في شرح ملتقیٰ الأبحر (۱/ ۴۹۰)