کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 313
الغرض عورت کے ذمے نکاح کے متعلق کوئی خرچ نہیں ہے،اس کی دلیل اﷲ تعالیٰ کا یہ قول ہے: {اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّ بِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِھِمْ} [سورۃ النساء:۳۴] [مرد عورتوں پر نگران ہیں،اس وجہ سے کہ اﷲ نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی اور اس وجہ سے کہ انھوں نے اپنے مالوں سے خرچ کیا] اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے مرد کے عورت پر حاکم ہونے کی ایک وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔پس اس سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ عورت پر اس بارے میں کچھ خرچ نہیں ہے،ورنہ اس کو بھی مرد پر کچھ حکومت ملتی۔اس بیان سے یہ صاف ہوگیا کہ نکاح کے وہ سب رسوم،جن میں عورت پر مال خرچ کرنا رکھا گیا ہے،شرع کے خلاف ہیں۔واللّٰه تعالیٰ أعلم۔کتبہ:محمد عبد اللّٰه (۲۲/ ربیع الآخر ۱۳۳۱ھـ) هو الموافق رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رخصتی کے وقت جہیز دینا،ابن ماجہ اور مسند احمد کی روایت میں آیا ہے۔مسند احمد کی روایت یہ ہے: ’’عن علي رضی اللّٰه عنہ قالَ:جَھَّزَ رسولُ اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم فَاطِمَۃ في خمیل و قربۃ و وسادۃ آدم،حشوھا لیف الإذخر‘‘[1] [علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو صوف کی ایک سفید چادر،ایک مشک اور چمڑے کا ایک ایسا تکیہ جہیز دیا،جس میں کھجور کی چھال اور اذخر گھاس بھری ہوئی تھی] مسند احمد کی دوسری روایت اس طرح ہے: ’’عن علي أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم لما زوجہ فاطمۃ بعث معھا بخمیلۃ و وسادۃ من آدم حشوھا لیف و رحیین وسقاء وجرتین‘‘[2] [علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کے ساتھ صوف کی ایک سفید چادر،ایک چمڑے کا تکیہ،جس کے اندر کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی،دو چکیاں،ایک مشک اور دو گھڑے بھیجے] ابن ماجہ کی روایت یہ ہے: ’’عن علي رضی اللّٰه عنہ أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:أتیٰ علیا و فاطمۃ،وھما في خمیل لھما،والخمیل القطیفۃ البیضاء من الصوف،قد کان رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم جھزھما بھا و وسادۃ محشوۃ إذخرا وقربۃ‘‘[3] [1] مسند أحمد (۱/۸۴) [2] مسند أحمد (۱/۱۰۴) [3] سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۱۴۵۲)