کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 312
کتاب النکاح دخترانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شادیاں اور ہمارے معاشرتی رسم و رواج: سوال:ہمارے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کتنی صاحبزادیاں تھیں ؟ ہر ایک صاحبزادی کا نکاح کس طرح حضور نے کیا اور جہیز میں کیا کیا چیزیں حضور نے دیں اور مہر کیا مقرر ہوا تھا؟ خاص کر کے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح میں کس طرح کیا گیا اور جہیز میں کیا کیا چیزیں دی گئیں تھیں اور رخصت کس طرح کی گئی تھیں ؟ لباس کیا تھا؟ سواری پر یا پیدل اور پیر میں جوتا تھا یا نہیں ؟ بستر پلنگ دیا گیا تھا یا نہیں ؟ غرضکہ جو جو کام حضور نے اپنی صاحبزادیوں کے نکاح میں کیے ہوں،ان سب کام کی تفصیل پوری طور سے اچھی طرح سے لکھیے۔اگر کوئی حضور کی صاحبزادیوں کی نقل کرے تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟ آج کل نکاح میں بہت سی رسم ہوتی ہے،یعنی نئے کپڑے دینا۔بستر عمدہ،خوبصورت پلنگ کا ہونا ضروری سمجھتے ہیں،ورنہ لوگ طعن کرتے ہیں۔اسی طرح برتن میں بھی کرتے ہیں،اسی طرح مہر کی بھی تفصیل فرمائیے،زیادہ سے زیادہ کس قدر اور کم سے کم کس قدر؟ کیونکہ اس میں بھی لوگ غلطی کیا کرتے ہیں،کوئی ہزار روپیہ مقرر کرتا ہے،اس شرط پر کہ یہ مہر خاندانی ہے۔ جواب:حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں چار تھیں۔(زاد المعاد:۱/ ۲۵) ان صاحبزادیوں کا نکاح آپ نے کس طرح کیا اور جہیز میں کیا کیا چیزیں دیں اور رخصت کس طرح کیا اور لباس کیا دیا اور سوار یا پیدل رخصت کیا اور پیر میں جوتی دی یا نہیں ؟ بستر پلنگ دی یا نہیں ؟ کسی حدیث صحیح میں میری نظر سے نہیں گزرا۔مہر کی نسبت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ۱۲ اوقیہ سے،جس کا ایک سو پچاس روپیہ یا کچھ کم ہوتا ہے،زیادہ آپ نے کسی صاحبزادی کا مہر نہیں مقرر فرمایا۔[1] (مشکاۃ،ص:۲۶۹) واضح رہے کہ شرع میں کسی آیت یا صحیح حدیث سے مہر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے،نہ کم کی جانب نہ زیادہ کی جانب،بلکہ صرف یہ فرمایا گیا ہے:{اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِکُمْ} [النساء:۲۴] [اپنے مالوں کے بدلے طلب کرو] جس میں قلت و کثرت کی کوئی قید نہیں ہے،غالباً اس بارے میں حیثیت کا اعتبار ہو گا،نیز واضح ہو کہ نکاح میں عورت کی جانب کوئی خرچ نہیں رکھا گیا ہے،جو کچھ خرچ رکھا گیا ہے،سب مرد پر رکھا گیا ہے۔مہر بھی مرد ہی پر رکھا گیا ہے،نفقہ اور سکنیٰ بھی مرد ہی پر ہے،دعوتِ ولیمہ بھی مرد ہی پر ہے۔ [1] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۱۱۴)