کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 311
کتاب الحج کیا حرام مال سے حج کرنا درست ہے؟ سوال:اگر کسی شخص کے پاس مال وجہ حلال سے نہ ہو،لیکن وہ شخص مستطیع ہو تو اس پر حج فرض ہے یا نہیں اور ایسے شخص مستطیع کا اسی مال سے حج کرنا باعثِ ثواب ہوگا یا نہیں ؟ جواب:جس شخص کے پاس مال وجہ حلال سے نہ ہو،بلکہ وجہ حرام سے ہو اور اسی مال حرام ہی سے وہ مستطیع ہو تو اس پر حج فرض نہیں ہے۔ایسے شخص کا مالِ حرام سے حج کرنا باعثِ قبولیت اور ثواب نہیں ہے۔قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( لا یقبل اللّٰه إلا الطیب )) [1] رواہ الشیخان (مشکاۃ شریف باب فضل الصدقۃ) واللّٰه أعلم بالصواب۔ [رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اﷲ (خود بھی پاک ہے) اور پاک چیز ہی کو قبول کرتا ہے] کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[2] سید محمد نذیر حسین [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۱۳۴۴) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۰۱۴) [2] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۱۲۳)