کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 309
سے دوسری صورت کہیں اَفحش ہے۔ شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی رحمہ اللہ ’’مصفی شرح موطا‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’وغیر جماع را بر جماع حمل نتواں کرد زیرا کہ جماع افحش است ولہٰذا در اعتکاف اکل و شرب جائز د اشتند نہ جماع را‘‘ انتھیٰ [غیر جماع کو جماع پر محمول نہیں کیا جا سکتا،کیوں کہ جماع افحش ہے،لہٰذا دورانِ اعتکاف کھانے پینے کو جائز کیا گیا ہے نہ کہ جماع کو] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ’’فتح الباری‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’والفرق بین الانتھاک بالجماع والأکل ظاھر،فلا یصح القیاس المذکور‘‘[1] [جماع کے ساتھ روزہ توڑنے اور قصداً کھانے پینے سے روزہ توڑنے میں فرق ظاہر ہے،لہٰذا مذکورہ قیاس درست نہیں ہے] باقی رہا قضا رکھنا،پس قصداً جماع سے روزہ توڑنے والے کو قضا رکھنا بعض روایتوں سے ثابت ہے۔’’تلخیص الحبیر‘‘ (ص:۱۹۶) میں ہے: ’’وروي في بعض الروایات أنہ قال للرجل:(( واقض یوما مکانہ )) أبو داود من حدیث ھشام بن سعد عن الزھري عن أبي سلمۃ عن أبي ھریرۃ،وأعلہ ابن حزم بھشام بن سعد،وقد تابعہ إبراھیم بن سعد،کما رواہ أبو عوانۃ في صحیحہ۔۔۔وقال سعید بن منصور:ثنا عبد العزیز بن محمد عن ابن عجلان عن المطلب بن أبي وداعۃ عن سعید بن المسیب جاء رجل إلیٰ النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم فقال:یا رسول اللّٰه! إني أصبت امرأتي في رمضان؟ فقال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( تب إلی اللّٰه واستغفرہ،وتصدق،واقض یوما مکانہ )) [2] انتھیٰ ملخصاً [بعض روایات میں منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو کہا کہ اس دن کے عوض ایک دن کا روزہ رکھو۔ابو داود نے ہشام بن سعد کے واسطے سے بیان کیا ہے،وہ زہری سے بیان کرتے ہیں،وہ ابو سلمہ سے اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ابن حزم رحمہ اللہ نے ہشام کی وجہ سے اسے معلول قرار دیا ہے،جب کہ ابراہیم بن سعد نے ان کی متابعت کی ہے،جس طرح ابو عوانہ نے اپنی صحیح میں اسے روایت کیا ہے۔۔۔ سعید بن منصور نے کہا ہے کہ ہمیں عبد العزیز بن محمد نے بیان کیا ہے،انھوں نے ابن عجلان سے روایت کیا ہے،انھوں نے مطلب بن ابی وداعہ سے اور انھوں نے سعید بن المسیب سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی [1] فتح الباري (۴/۱۶۱) [2] التلخیص الحبیر (۲/۲۰۷)