کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 307
ھریرۃ أن رجلا أکل في رمضان فأمرہ النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم أن یعتق رقبۃ۔الحدیث،لکن إسنادہ ضعیف،لضعف أبي معشر،راویہ عن ابن کعب‘‘[1] انتھیٰ [اس سلسلے میں استدلال کے لیے بہتر دلیل وہ ہے،جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے محمد بن کعب کے واسطے سے بیان کیا ہے،وہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تو نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گردن (غلام،لونڈی) آزاد کرنے کا حکم دیا۔۔۔لیکن اس کی سند ضعیف ہے،کیوں کہ محمد بن کعب سے روایت کرنے والا راوی ابو معشر ضعیف ہے] وجوبِ کفارہ پر ایک یہ حدیث بھی پیش کی جاتی ہے،جو ہدایہ (ص:۱۲۳ مطبوع علوی) میں مذکور ہے: (( من أفطر في رمضان فعلیہ ما علیٰ المظاھر )) [جس نے رمضان کا کوئی روزہ توڑا تو اس پر ظہار کرنے والے آدمی جیسا کفارہ ہے] مگر اس حدیث کا پتا اس لفظ کے ساتھ ہدایہ کے مخرجین کو نہیں لگا ہے،چنانچہ زیلعی فرماتے ہیں:’’قلت:غریب بھذا اللفظ‘‘[2] [میں کہتا ہوں کہ یہ روایت ان الفاظ میں غریب ہے] حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:’’لم أجدہ ھکذا‘‘[3] [مجھے یہ حدیث اس طرح نہیں ملی] پس جب تک اس حدیث کا پتا اس لفظ کے ساتھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا،اس حدیث سے استدلال کیسے صحیح ہوگا؟ اس حدیث سے استدلال کرنے والے کو لازم ہے کہ اولاً یہ بتائے کہ یہ حدیث کس کتاب کی ہے اور صحیح ہے یا ضعیف؟ پھر اس کے بعد اس سے استدلال کا قصد کرے۔ وجوبِ کفارہ پر بخاری اور مسلم کی یہ ایک روایت بھی پیش کی جاتی ہے: ’’عن أبي ھریرۃ أن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم أمر رجلا أفطر في رمضان أن یعتق رقبۃ أو یصوم شھرین متتابعین أو یطعم ستین مسکینا‘‘[4] [ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو،جس نے رمضان کا روزہ توڑا تھا،گردن (غلام،لونڈی) آزاد کرنے کا یا پے در پے دو مہینوں کے روزے رکھنے کا یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیا] مگر اس روایت سے بھی احتجاج صحیح نہیں ہے۔اس حدیث سے وجوبِ کفارہ پر احتجاج صحیح نہ ہونے کی وجہ زیلعی حنفی فرماتے ہیں: [1] التعلیق المجد (۲/۱۶۱) [2] نصب الرایۃ (۲/۳۲۸) [3] الدرایۃ في تخریج أحادیث الھدایۃ (۱/۲۷۹) [4] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۶۳۳۲) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۱۱۱)