کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 306
یعنی جو شخص تم لوگوں میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو گنتی پوری کرے دوسرے دنوں سے۔اگر کھانے یا پینے سے قصداً روزہ توڑا ہے تو اس نے بڑا گناہ کا کام کیا ہے،اپنے اس گناہ پر نادم ہو کر اﷲ تعالیٰ کی درگاہ میں توبہ کرے۔اپنی مغفرت چاہے اور قصداً کھا پی کر روزہ توڑنے والے پر بعض ائمہ کے نزدیک کفارہ دینا لازم ہے اور بعض کے نزدیک نہیں۔ جامع ترمذی (ص:۹۵ مطبوعہ دہلی) میں ہے: ’’وأما من أفطر متعمداً من أکل وشرب،فإن أھل العلم قد اختلفوا في ذلک،فقال بعضھم:علیہ القضاء،والکفارۃ،وشبھوا الأکل والشرب بالجماع،وھو قول سفیان الثوري وابن المبارک وإسحاق،وقال بعضھم:علیہ القضاء،ولا کفارۃ علیہ،لأنہ إنما ذکر عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم الکفارۃ في الجماع،ولم یذکر في الأکل والشرب،وقالوا:لا یشبہ الأکل والشرب الجماع،وھو قول الشافعي وأحمد‘‘ [جس شخص نے کچھ کھا پی کر عمداً روزہ توڑ دیا تو اس کے بارے میں اہلِ علم کا اختلاف ہے،بعض نے کہا ہے کہ اس کو روزے کی قضا کے ساتھ ساتھ اس کا کفارہ بھی دینا ہوگا،چنانچہ انھوں نے کھانے پینے کو جماع کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔یہ موقف سفیان ثوری،عبداﷲ بن مبارک اور اسحاق رحمہم اللہ کا ہے۔بعض اہلِ علم نے کہا ہے کہ اس پر روزے کی قضا ہے،کفارہ نہیں ہے،کیوں کہ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف جماع کی صورت میں کفارہ روایت کیا گیا ہے،کھانے پینے کے بارے میں نہیں،چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ کھانا پینا جماع کے مشابہ نہیں ہے۔یہ قول امام شافعی اور احمد رحمہم اللہ کا ہے] مگر جو لوگ اس صورت میں کفارہ واجب کہتے ہیں،ان کے پاس کوئی کافی ثبوت نہیں ہے اور جو دلائل وجوبِ کفارہ پر پیش کیے جاتے ہیں،ان سے احتجاج صحیح نہیں۔وجوبِ کفارہ پر دارقطنی کی یہ ایک روایت پیش کی جاتی ہے: ’’عن أبي ھریرۃ أن رجلا أکل في رمضان فأمرہ النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم أن یعتق رقبۃ أو یصوم شھرین أو یطعم ستین مسکینا‘‘[1] [ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کچھ کھا لیا (اور روزہ توڑ دیا) تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ ایک گردن (غلام،لونڈی) آزاد کرے یا دو مہینے کے روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے] مگر یہ روایت ضعیف ہے،اس کا ایک راوی ابو معشر قوی نہیں ہے،چنانچہ خود دارقطنی اس حدیث کے بعد کہتے ہیں: ’’أبو معشر ھو نجیح،لیس بالقوي‘‘ [ابو معشر نجیح قوی نہیں ہے] مولانا عبد الحی صاحب مرحوم ’’التعلیق الممجد‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’والأحسن في الاستدلال ما أخرجہ الدارقطني من طریق محمد بن کعب عن أبي [1] سنن الدارقطني (۲/۱۹۱)