کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 304
اس کا کیا حکم کیا ہے؟ قرآن و حدیث سے اس کی دلیل کیا ہے؟ جواب:جواب سوال اول:رمضان شریف میں اگر کسی شخص نے تندرستی کی حالت میں قصداً سحری کے قبل اپنی بی بی سے ہم بستری کی اور بغیر غسل کے سحری کھائی اور قبل نمازِ فجر غسل کر لیا تو اس شخص کا روزہ بلاشک و شبہہ جائز و درست ہوا،لیکن افضل یہ ہے کہ غسل کر کے سحری کھائے اور اگر بجائے غسل کے وضو کر کے سحری کھائے تو یہ وضو درست ہوجائے گا۔مشکاۃ شریف میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: ’’قالت:کان رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم یدرکہ الفجر في رمضان،وھو جنب من غیر حلم فیغتسل ویصوم‘‘[1] (متفق علیہ) [انھوں نے کہا:رمضان میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں فجر ہوتی کہ آپ احتلام کے بغیر حالتِ جنابت میں ہوتے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے اور روزہ رکھتے] فتح الباری شرح صحیح بخاری (۷/ ۲۵۹) میں ہے: ’’قال القرطبي:في ھذا (أي في ھذا الحدیث) فائدتان:إحداھما أنہ کان یجامع في رمضان،ویؤخر الغسل إلی بعد طلوع الفجر بیانا للجواز۔۔۔وأرادت بالتقیید بالجماع المبالغۃ في الرد علیٰ من زعم أن فاعل ذلک عمداً یفطر،إذا کان فاعل ذلک عمداً لا یفطر،فالذي ینسیٰ الاغتسال أو ینام عنہ أولیٰ بذلک‘‘[2] [امام قرطبی رحمہ اللہ نے کہا ہے:اس حدیث میں دو فائدے ہیں:ایک تو یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں جماع کرتے تھے اور بیانِ جواز کے لیے غسل کو طلوعِ فجر کے بعد تک موخر کرتے تھے۔۔۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے جنابت کو جماع کے ساتھ مقید اس لیے کیا ہے،تاکہ اس شخص کا مبالغے سے رد ہو سکے جس کا یہ گمان ہے کہ عمداً ایسا کرنے والے کا روزہ نہیں ہو گا۔جب عمداً ایسا کرنے والے کا روزہ ختم نہ ہو گا تو جو غسل کرنا بھول جاتا ہے یا اس سے سویا رہتا ہے تو وہ زیادہ حق رکھتاہے کہ اس کا روزہ نہ ٹوٹے] نیز مشکاۃ شریف میں ہے: ’’عن ابن عمر قال:ذکر عمر بن الخطاب رضي اللّٰه عنہ لرسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم أنہ تصیبہ الجنابۃ من اللیل،فقال لہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم:توضأ واغسل ذکرک،ثم نم‘‘[3] (متفق علیہ) [عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا کہ رات کے وقت وہ [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۱۸۲۹) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۱۰۹) [2] فتح الباري (۴/ ۱۴۴) [3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۲۸۶) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۳۰۶)