کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 302
اس روایت میں آیتِ ناسخہ:{وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ} بتائی گئی ہے اور صحیحین کی دونوں حدیث مذکورہ بالا میں {فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ} اور یہی معتمد ہے۔ان روایات سے صاف ثابت ہوا کہ آیت:{وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ} منسوخ ہے۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ان روایات کو ذکر کر کے لکھتے ہیں: ’’واتفقت ھذہ الأخبار علی أن قولہ:{وَ عَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَۃٌ} منسوخ،وخالف في ذلک ابن عباس رضی اللّٰه عنہما فذھب إلیٰ أنھا محکمۃ لکنھا مخصوصۃ بالشیخ الکبیر ونحوہ‘‘ انتھیٰ۔ پس جب ثابت ہوا کہ آیت:{وَ عَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ} منسوخ ہے تو روزے کی عدمِ فرضیت پر اس سے استدلال صحیح نہیں۔ اگر کوئی صاحب فرمائیں کہ یہ روایات مذکورہ موقوف ہیں جو قابلِ احتجاج نہیں،غایت ما فی الباب ان روایات سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابن عمرو اور سلمہ بن الاکوع کے اجتہاد و رائے میں آیتِ مذکورہ منسوخ ہے،اور بس۔جواب اس کا یہ ہے کہ احادیث مذکورہ بالا اگرچہ لفظاً موقوف ہیں،مگر معناً مرفوع ہیں۔اس وجہ سے کہ صحیح مسلم کی ایک روایت بایں لفظ مروی ہے: عن سلمۃ بن الأکوع أنہ قال:کنا في رمضان علی عہد رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم من شاء صام ومن شاء أفطر فافتدیٰ بطعام مسکین حتی أنزلت ھذہ الآیۃ:{فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ}[1] [یعنی سلمہ بن اکوع فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ماہِ رمضان میں ہم لوگوں میں سے جو شخص چاہتا روزہ رکھتا اور جو شخص چاہتا روزہ نہیں رکھتا اور ایک مسکین کو کھانا دیتا،یہاں تک کہ آیت:{فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ} نازل ہوئی] اس روایت میں سلمہ بن اکوع کا یہ قول کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ماہِ رمضان میں ہم لوگوں میں سے جو شخص چاہتا۔۔۔الخ لفظاً موقوف معلوم ہوتا ہے،مگر درحقیقت یہ قول مرفوع ہے۔مقدمہ ابن صلاح میں ہے: ’’قول الصحابي:(کنا نفعل کذا وکنا نقول کذا) إن لم یضفہ إلی زمان رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم فھو من قبیل الموقوف،وإن أضافہ إلی زمان رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم فالذي قطع بہ أبو عبد اللّٰه بن البیع الحافظ و غیرہ من أھل الحدیث وغیرھم:أن ذلک من قبیل المرفوع۔وبلغني عن أبي بکر البرقاني أنہ سأل أبا بکر الإسماعیلي الإمام عن ذلک [1] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۱۴۵)