کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 300
کتاب الصوم روزے کی فرضیت کے بارے میں ایک اشکال اور اس کا ازالہ: [اس مذاکرے[1] میں جو سوال درج ہوا ہے،یہ ہے کہ آیت:{وَ عَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ} [البقرۃ:۱۸۴] ’’اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں۔‘‘ کے مطابق روزہ رکھنا فرض نہیں معلوم ہوتا،بلکہ بحکم:{وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ} [البقرۃ:۱۸۴] ’’پھر جو شخص خوشی سے کوئی نیکی کرے تو وہ اس کے لیے بہتر ہے] افضل ہے] اس سوال کے تین جواب شائع ہو چکے ہیں۔ایک حضرت سیدنا و شیخنا مولانا حافظ عبداﷲ صاحب غازی پوری کا (متع اللّٰه المسلمین بطول بقائھم) اور ایک مولانا عبدالجبار صاحب کا،اور ایک کسی حنفی مولوی صاحب کا۔قوی امید ہے کہ حضرت محدث رحیم آبادی و فاضل سیالکوٹی کے جوابات بھی آیندہ شائع ہوں گے،جن کے دیکھنے کا شوق کے ساتھ انتظار ہے۔اس بات کا تو ہمیں یقین ہے کہ اصل جواب میں یہ کل حضرات متفق ہوں گے،یعنی رمضان کا روزہ رکھنا فرض ہے،ہاں طرزِ استدلال و عنوانِ بیان میں اور {وَ عَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ} کی تاویل و توجیہ میں البتہ کچھ اختلاف آرا ہو گا،جو اصل مقصود کو کچھ مضر نہیں۔ عِبَارَاتُنَا شَتیّٰ وَحُسْنُکَ وَاحِدٌ وَکُلُّ إِلیٰ ذَاکَ الْجَمَالِ یُشِیْرُ آخر الذکر دونوں علامہ کے جوابات شائع ہونے کے بعد اگر موقع ملا تو ان شاء اﷲ تعالیٰ ایک مضمون میں بھی ہدیہ ناظرین کروں گا۔سرِدست سوالِ مذکور کا جو جواب میرے نزدیک قابلِ وثوق ہے،اس کو درج کرتا ہوں،وہو ہذا۔ [ابو الوفاء امرتسری] جواب:بے شک آیت:{وَ عَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ} سے روزے کی فرضیت ثابت نہیں ہوتی،بلکہ بحکم:{وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ} روزہ رکھنے کی اولویت و افضلیت ثابت ہوتی ہے۔مگر یہ آیت منسوخ ہے اور اس کی ناسخ آیت {فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ} ہے۔پس آیت:{وَ عَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ} سے روزے کی عدمِ فرضیت پر استدلال صحیح نہیں۔آیت:{وَ عَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ} کے منسوخ ہونے پر ذیل [1] ہفت روزہ ’’اہلِ حدیث امرتسر میں اس مسئلے پر ایک مذاکرہ ہوا تھا،جس میں مختلف علما نے جوابات رقم کیے،انہی میں ایک جواب مولانا مبارکپوری نے بھی لکھا،جو مندرجہ بالا سطور میں نقل کیا جا رہا ہے۔دیکھیں:’’اہلِ حدیث‘‘ امرتسر (۷؍ اکتوبر ۱۹۱۱ء)